انوارالعلوم (جلد 7) — Page 409
انوار العلوم جلدے دعوة الامير محدود تھا اور کپڑے بھی ایسے باریک تیار ہونے لگ گئے ہیں کہ ان کا لباس پہننے سے ایک خیالی زینت تو شاید پیدا ہو جاتی ہو گی مگر پر وہ یقینا نہیں ہوتا اور اکثر حصہ دنیا کا ان لباسوں کا شیدا ہو رہا ہے اور اسے عورتوں کیلئے زینت خیال کر رہا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اہل یورپ اور امریکہ کی عورتوں کے لباس کا طریق ایسا ہے کہ ان کے بعض قابل ستر حصے ننگے رہتے ہیں مثلاً عام طور پر اپنی چھاتیاں سنگی رکھتیں ہیں کہنیوں تک باہیں ننگی رکھتی ہیں پس باوجو د لباس کے وہ ننگی ہوتی ہیں۔ غرض دو طرح اس علامت کا ظہور ہو رہا ہے مسلمانوں میں باریک کپڑے کے استعمال سے اور مسیحیوں میں سینہ اور سر اور بازوؤں کے ننگے رکھنے سے۔ ایک علامت رسول کریم اللہ نے آخری زمانے کی جو مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے یہ بیان فرمائی ہے کہ عورتیں اس وقت اونٹ کے کوہان کی طرح سر کے بالوں کو رکھیں گی ۱۲۵۔ چنانچہ یورپ کی عورتوں کا یہی طریق ہے وہ سر کو گوندھنا نا پسند کرتی ہیں اور بال پھلا کر اس طرح رکھتیں ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا سر پر کچھ اور چیز رکھی ہے دوسری اقوام بھی ان کے اقتدار سے متاثر ہو کر ان کی نقل کر رہی ہیں اور جس طرح لوگ ان کے باقی اقوال وافعال کو وحی آسمانی سے زیادہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس امر میں بھی ان کی اتباع میں تہذیب کی ترقی دیکھتے ہیں۔ ایک علامت اس زمانے کی حضرت ابن عباس نے رسول کریم اللہ سے یہ روایت کی ہے کہ اس وقت عورت اپنے خاوند کے ساتھ مل کر تجارت کرے گی ۱۳۶۔ یہ علامت بھی ظاہر ہو چکی ہے، بلکہ اس کا اس قدر زور ہے کہ عورتوں کے بغیر تجارت کامیاب ہی نہیں سمجھی جاتی اور اس سے بھی زیادہ اب یہ حالت پیدا ہو رہی ہے کہ یورپ کے بعض شہروں میں دکانوں پر بعض خوبصورت عورتیں صرف اس غرض سے رکھی جاتی ہیں کہ وہ گاہکوں سے مل کر ان کے دل لبھانے کی کوشش کیا کریں تاکہ وہ ضرور سودا وہیں سے خریدیں اور خالی نہ لوٹ جاویں۔ ایک علامت اس زمانے کے تمدن کی رسول کریم ال نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت عورتیں اس قدر آزاد ہوں گی کہ وہ مردوں کا لباس پہنیں گی اور گھوڑوں پر سوار ہوں گی ۱۲۷۔ بلکہ مردوں پر حکمران ہوں گی ۱۲۸ تمدن موجودہ میں یہ تغیر بھی پیدا ہو چکا ہے اور امریکہ اور دیگر مسیحی ممالک میں اور ان کی دیکھا دیکھی دوسرے مذاہب کے پیروؤں میں بھی عورتوں کی آزادی کا ایک غلط مفہوم لیا جانے لگا ہے کہ سن کر حیرت ہوتی ہے اور ان خیالات