انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 405

۴۰۵ دعوۃالامیر والے ہوں مگر ایسا ایک شخص بھی ان لوگوں میں نہیں پایا جاتا جو مشائخ اور صوفیاء اور اقطاب اور ابدال اور علماء اور فضلاء کہلاتے ہیں۔پس نفس زکیہ کو آج دنیا نے مار دیا ہے اور نفسِ امارہ کو زندہ کر دیا ہے اور وہی ان کو مطلوب بن رہا ہے۔ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کی یہ بتائی ہے کہ اس وقت امانت اٹھ جائے گی ، چنانچہ دیلمی نے حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک اضاعتِ امانت بھی ہے امانت اٹھ جانے اور اس کی جگہ خیانت کے لے لینے کا نظارہ نظر آرہا ہے اس کی زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں ، ہر گاؤں اور ہر محلے اور ہر گھر کے لوگ اس تغیر کے تلخ اثر کو محسوس کر رہے ہیں۔ایک تغیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کی اخلاقی حالت میں یہ بیان فرمایا تھاکہ اس وقت لوگ ماں باپ سے توحسن سلوک نہ کریں گے، لیکن دوستوں سے سلوک کریں گے۔چنانچہ ابو نعیم نے حلیہمیں حذیفہ بن الیمان سے روایت کی ہے کہ اس وقت لڑکا اپنے باپ کی تو نافرمانی کرے گا اور اپنے دوست سے احسان کرے گا۔یہ تغیر بھی اس شدت کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ ہر شریف آدمی کا دل اس کو دیکھ کر موم کی طرح پگھل جاتا ہے ، مغربی تمدن کے دلدادہ اور تعلیم جدید سے روشنی حاصل کرنیوالے لوگ اپنے بزرگوں کو پاگل سمجھتے اور ان کی صحبت سے احتراز کرتے ہیں اور اپنے ہم خیال نوجوانوں کی مجالس حیا سوز میں اپنے اوقات صرف کرنے کو راحت سمجھتے ہیں۔دوستوں کی دعوتوں اور ان کی خاطر و مدارات وغیرہ پر خرچ کرنے کے لئے ان کے پاس روپیہ نکل آتا ہے۔لیکن غریب ماں باپ کی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف انہیں کبھی توجہ نہیں ہوتی۔ہندوستان میں ہزاروں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ ماں باپ نے بھوکے پیاسے رہ کر اور رات دن محنت کر کے بچوں کو پڑھا یا ، لیکن جب اولاد صاحب علم ہو کر برسر کار ہوئی تو اس نے اپنے ماں باپ کو برابر بٹھا نا بھی عار سمجھا اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا اکہ ایک اجنبی آدمی ان کو خادم ہی سمجھ سکتا ہے۔اب تو اس قسم کی ہزاروں مثالیں ہیں ، لیکن پہلےزمانوں میں اس قسم کی ایک مثال بھی ملنی مشکل ہے۔علمی حالت:۔جس طرح مسیح موعودؑ کے زمانے کی اخلاقی حالت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اسی طرح آپؐ نے اس زمانے کی علمی حالت بھی بیان فرمائی ہے، چنانچہ ترمذی میں انسؓ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اشراطِ