انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 402

انوار العلوم جلدے ۴۰۲ دعوة الامير نہایت سنجیدگی سے اس پر بحثیں ہوں گی کہ نکاح ایک دقیانوسی خیال ہے ۔ ہر مرد اس عورت سے جسے وہ پسند کرے تعلق قائم کر کے اولاد پیدا کر سکتا ہے اور عورت ایک قیمتی مشین سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی جس سے پورا کام لے کر ملک کو فائدہ پہنچانا چاہئے جیسا کہ آج کل بعض سوشلسٹ حلقوں کا اور خصوصاً بالشویک حلقوں کا خیال ہے ۔ جب فحش کی یہ حالت ہو تو خیال کیا جا سکتا ہے کہ ولد الزناکس کثرت سے ہوں گے کیونکہ جب تک تک ملک میں زنا ایک عیب سمجھا جائے لوگ ایسی اولاد پیچھے چھوڑنا پسند نہیں کرتے جسے ولد الزنا ہونے کا طعنہ دیا جائے لیکن جس سوسائٹی میں زنا کے وجود سے ہی انکار کیا جائے اور نکاح کو مذہب کی بے جا دست اندازی تصور کیا جائے اس میں ایسی اولاد سے کیا شرم ہو سکتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ایسی سوسائٹی میں ایسی اولاد کے سوا دوسری اولاد مل ہی کہاں سکتی ہے۔ چنانچہ اوپر کے بیان کردہ خیالات کے لوگوں میں ایسی ہی اولادیں پیدا کی جاتی ہیں اور اسے کچھ عیب نہیں سمجھا جاتا۔ مگر ان کے علاوہ دوسرے لوگ جو نکاح کو کم سے کم ایک قدیم رسم کر کے چھوڑنا نہیں چاہتے ان میں بھی اولاد الزنا کی تائید میں اس وقت اس قسم کا جوش پایا جاتا ہے کہ بڑے بڑے فلاسفران کو ملک کیلئے ایک نعمت اور ذریعہ حفاظت قرار دے رہے ہیں اور ایسی اولاد کو والدین کا وارث بنانے کی تائید میں بڑے زور سے تحریک کر رہے ہیں اور بصورت دیگر حکومت کو انہیں اپنا بچہ تصور کر کے ان کی خاص غور و پرداخت کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ جب حالات یہ ہوں تو اولاد الزنا کی ان علاقوں میں جو کچھ کثرت ہو سکتی ہے اس کی مثال پہلے زمانوں میں ملنی تو کیا معنی یہ بھی قیاس نہیں کیا جا سکتا کہ پہلے زمانوں کے لوگ اس قسم کی حالت کا تصور بھی کر سکتے تھے ۔ ایک تغیر اس زمانے کی اخلاقی حالت کے متعلق رسول کریم اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے روایت کہ اس وقت شراب کا استعمال بہت بڑھ جائے گا۔ چنانچہ انس بن مالک سے مسلم میں ، ہے کہ اشراط ساعت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ يُشْرَبُ الْخَمْرُ ١٣ شراب بهت پی جائے گی اور ابو نعیم نے حلیہ میں یہ میں حذیفہ بن الیمان" سے روایت کی ہے کہ رسول کریم ا نے اشراط ساعت میں سے ایک یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ اس وقت راستوں میں شراب پی جائے گی ۱۴۔ شراب کی جو کثرت اس زمانے میں ہے وہ کسی بیان کی محتاج نہیں۔ یورپ میں