انوارالعلوم (جلد 7) — Page 398
انوار العلوم جلدے ۳۹۸ دعوة الامير ہیں مگر جہاں یہ انتظام نہیں وہاں سوائے شاذ و نادر کے بہت لوگ زکوۃ نہیں دیتے اور جو اقوام زکوۃ دیتی بھی ہیں وہ اسے نمود کا ذریعہ بنا لیتی ہیں اور اس رنگ میں دیتی ہیں۔ میں دیتی ہیں کہ دوسرا اسے زکوۃ نہیں خیال کرتا بلکہ قومی کاموں کیلئے چندہ سمجھتا ہے ۔ ایک تغیر مسلمانوں کی حالت میں رسول کریم ا یہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ قوم جو ہر ایک عزیز سے عزیز شے کو خدا اور رسول کے اشارہ پر قربان کر دیتی تھی اور دنیا اس کی نظروں میں ایک جینے سے زیادہ حقیقت نہ رکھتی تھی وہ دنیا کی خاطر دین کو فروخت کرے گی ۸۷۔ اور یہ تغیر اس وقت ایسی کثرت سے ہو رہا ہے کہ ایک اسلام سے محبت رکھنے والے کا دل اسے دیکھ کر پکھل جاتا ہے۔ علماء اور صوفیاء اور امراء اور عوام سب دنیا کو دین پر مقدم رکھ رہے ہیں اور ادنی ادنی دنیاوی فوائد کیلئے دین اور مفاد اسلام کو قربان کر رہے ہیں۔ ایک تغیر رسول کریم اسے بروایت ابن عباس ابن مردویہ نے یہ بیان کیا ہے کہ اس زمانے میں نماز ترک ہو جائے گی ۸۹۔ چنانچہ یہ تغیر بھی پیدا ہو چکا ہے۔ تعداد کے لحاظ سے کل مسلمان کہلانے والے لوگوں میں سے ایک فی صدی بمشکل پانچوں نمازوں کے پابند نظر آویں گے ۔ حالانکہ نماز عملی ارکان میں سے اول رکن ہے اور بعض علماء کے نزدیک اس کا تارک کا فر ہے ۔ اس وقت مساجد بہت ہیں ، لیکن ان میں نمازی نظر نہیں آتے بلکہ بہت سی مساجد میں جانور رہتے ہیں اور ان کی بے حرمتی کرتے ہیں ، مگر مسلمانوں کو ان کی آبادی کی فکر نہیں۔ ۹۱ ایک تغیر رسول کریم ﷺ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت لوگ نماز بہت جلد جلد پڑھا کریں گے چنانچہ ابن مسعود کی روایت سے ابو الشیخ نے اشاعہ ۔ میں بیان کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ پچاس آدمی نماز پڑھیں گے اور ان میں سے کسی کی ایک نماز بھی قبول نہ ہوگی ۔ ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جلدی جلدی نمازیں پڑھیں گے ۔ باطن کی قبولیت تو کسی بات کی علامت نہیں قرار دی جاسکتی کیونکہ اس کا علم ہوائے خدا کے کسی کو نہیں ہو سکتا اور ظاہری علامات میں سے جن سے عدم قبولیت نماز کا حال معلوم ہوتا ہے سب سے ظاہر نماز کا جلد جلد پڑھنا ہی ہے کہ جلد جلد نماز ادا کرنے والے سے خود رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نماز نہیں ہوئی پھر ڈہرا - ۹۲۔ یہ تغیر بھی ! ی اس وقت پایا جاتا ہے جو لوگ نماز پڑھتے ہیں وہ نماز کو اس قدر جلد جلد ادا کرتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مرغ چونچیں مار رہا ہے اور نماز کے