انوارالعلوم (جلد 7) — Page 21
انوار العلوم - جلد ۲۱ تقریر جلسہ سالانہ ۲۷؛ کمبر ۱۹۲۲ء ے کہ اگر مومن کو چین میں بھی جاکر علم حاصل کرنا پڑے تو کرے۔ پس میں کہوں گا کہ ایک ذاتی مرض جہالت ہے اسکے دور کرنے کے لئے علم حاصل کرو۔ پچھلے سال میں نے بتایا تھا اب بھی نہایت افسوس کے ساتھ اس کا ذکر کرنا پڑا ہے کہ پچھلے سال شہری لوگوں کو تین تین سیر روپیہ کا آٹا لے کر کھانا پڑا مگر باوجود اس کے انہوں نے چندہ میں کمی نہ کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے کمی کر دی تو سلسلہ کا کام نہ چلے گا مگر دیہاتیوں نے اپنے چندے کم کر دیئے ۔ اگر چہ اس سال غلہ کم پیدا ہوا مگر انہوں نے مہنگا بیچ لیا۔ اس کے بعد سال رواں میں اور بھی کم ان کی طرف سے چندہ آیا مگر شہریوں نے چندہ خاص میں ایک ایک ماہ کی آمدنی دے دی۔ بہت سے دیہاتیوں نے کیوں نہ دی۔ یہ نہیں کہ ان میں اخلاص نہیں بلکہ یہ وجہ ہے کہ انہیں سلسلہ کی ضروریات کا علم نہیں اور اسی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ کہتے ہوں کہ اتنا روپیہ جو جمع ہوتا ہے جاتا کہاں ہے ؟ شاید کچھ لوگ آپس میں ہی بانٹ لیتے ہوں گے مگر شہری اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اصل میں ہمارے پاس روپیہ کی کمی ہے ورنہ ہم کام کو اور ترقی دے سکتے ہیں۔ پس شهری چونکہ اس کام کو جانتے ہیں جو ہو رہا ہے وہ زیادہ شوق سے حصہ لیتے ہیں مگر دیہاتی جہالت کی وجہ سے نہیں جانتے اور باوجو د ایمان کے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں تو جہالت بڑی خطرناک مرض ہے ۔ دنیاوی علم بھی روحانیت کے لئے ضروری ہے۔ رسول کریم ﷺ کو اس کا اتنا خیال تھا کہ جنگ بدر کے موقع پر جو لوگ قید ہو کر آئے اور وہ غریب تھے آپ نے ان کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ ان میں سے جو پڑھے لکھے ہیں وہ دس دس لڑکوں کو پڑھاویں ۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ملی ایم کو علم کے متعلق کتنا خیال تھا۔ پس ہماری جماعت کے ہر ایک فرد کو چاہئے کہ علم حاصل کرے اور جہالت سے نکلنے کی کوشش کرے۔ پانچویں باطنی بیماری سستی بھی ہے۔ بہت لوگ اس میں مبتلاء پائے جاتے ہیں یہ (۵) ستی بیماری روحانیت کو کھا جاتی ہے۔ اخلاص ہو مگر چستی نہ ہو تو اخلاص کچھ کام نہیں دے گا۔ چستی کہیں باہر سے نہیں آتی نہ چست انسان کو باہر سے کوئی خاص مدد ملتی ہے بلکہ اس کا اپنا ارادہ ہوتا ہے جس سے وہ کامیاب ہوتا ہے۔ ستی کی وجہ سے انسان عبادتوں سے محروم ہو جاتا ہے ، نمازوں سے محروم ہو جاتا ہے اور کئی باتوں سے محروم ہو جاتا ہے اور اپنے اوقات کو صحیح طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔ ایک چست آدمی ست کے مقابلہ میں چار گنا زیادہ کام کر سکتا ہے بلکہ ممکن ہے کہ ست آدمی اپنا وقت بالکل