انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 384

۳۸۴ لوگوں کے حق میں یہ آیت لفظاً لفظاً صادق آسکتی ہے کہ یَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًاo(الفرقان آیت -۳۱)تو وہ اس زمانے کے لوگ ہیں۔آج یہ سوال نہیں رہا کہ لوگوں نے کونسی بات اسلام کی چھوڑی ہے بلکہ سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ اسلام کی کونسی بات مسلمانوں میں با قی رہ گئی ہے۔کسی نے سچ کہاہے کہ’’ مسلمان در گورو مسلمانی در کتاب‘‘۔اسلام کا نشان صرف قرآن کریم اور احادیث صحیحہ اور کتب آئمہ میں ملتا ہے۔اس کا نشان لوگوں کی زندگیوں میں کہیں نہیں ملتا۔اول تو لوگ تعلیم اسلام سے واقف ہی نہیں اور اگر واقف ہونا بھی چاہیں تو ان کے لئے اسلام سے واقف ہونا قریباً نا ممکن ہو گیا ہے۔کیونکہ اسلام کی ہر چیز ہی مسخ کر دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰٰ کی پاک ذات کے متعلق ایسے عقائد تراشے گئے ہیں کہ جن کو تسلیم کر کے سُبحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ(بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالٰی وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَۃِ)زبان سے نکالنا ایک راستباز انسان کے لئے مشکل ہے۔ملائکہ کی نسبت ایسی باتیں بنائی گئی ہیں کہ الامان! وہ ہستیاں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ o (سورۃ النحل آیت۔۵۱)کہیں ان کو خدا پر اعتراض کرنے والا قرار دیا جاتا ہے۔کہیں انسانی بھیس میں اتار کر ناپاک عورتوں کا عاشق بنایا جاتا ہے۔نبیوں کی طرف جھوٹ اور گناہ کی نسبت کر کے ان کی ذات سے جو رشتہ محبت ہونا چاہئے ، اسے ایک ہی وار سے کاٹ دیا جاتا ہے اور کلام الٰہی کو شیطانی دست بُرد کا شکار بنا کر اسے بالکل ہی ساقط از اعتبار کر دیا جاتا ہے۔شراب اور جنت اور دوزخ کی وہ کیفیت بیان کی جاتی ہے کہ یا تو یہ عقائد شاعرانہ نازک خیالی بن جاتے ہیں یا پھر عجیب مضحکہ خیز کہا نیاں ہو جاتے ہیں۔دوسرےانبیاء تو خیر دور کے لوگ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کہیں زینب کی محبت کا قصہ اور کہیں چوری چوری ایک لونڈی سے تعلق کر نے کا واقعہ اور اس قسم کے اور بعید از اخلاق واقعات کو منسوب کر کے آپؐ کی کامل اور حامل اخلاق فاضلہ ذات کو بد شکل کرکےدکھا یا جاتا ہے اور کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْاٰنُ(مجمع البحار مؤلفہ شیخ محمد طاھر جلد۱ صفحہ ۳۷۲ ، مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحہ ۹۱)کی اس شہادت کو جو آپؐ کی سب سے زیادہ محرمِ راز(حضرت عائشہ ؓ) کی شہادت ہے، نظر انداز کیا جاتا ہے۔نسخ کا مسئلہ ایجاد کر کے اور قرآن کریم جیسی کامل کتاب میں اپنے دل سے اختلاف نکال کر اس کی بہت سی آیات کو بلا شارع کی نص کے منسوخ قرار دیا جاتا ہے اور اس طرح ایک فکر کرنے والے آدمی کے لئے اس کی کوئی آیت بھی قابل عمل اور قابل اعتبار باقی نہیں چھوڑی جاتی۔ایک وفات یافتہ موسوی نبی کو واپس لا کر امتِ محمدیہ کی ناقابلیت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم