انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 383

انوار العلوم جلدے ۳۸۳ دعوة الامير جائے ۔ (۲) یہ کہ اللہ تعالٰی نے اس بات کا وعدہ بھی کیا ہے کہ جب بندہ ہدایت کا محتاج ہو گا تو وہ اسے ہدایت دے گا (۳) اگر وہ ایسا نہ کرے تو بندے کا حق ہے کہ اس کے فعل پر اعتراض کرے (۴) اگر وہ ضرورت کے وقت ہدایت نہ بھیجے اور لوگوں کو سزا دے جو گمراہ ہو گئے ہوں تو یہ ظلم ہو گا اور خدا ظالم نہیں (۵) مسلمانوں کی اصلاح کیلئے اس قسم کے آدمی ہمیشہ بھیجتے رہنے کا جو مطالب قرآنیہ کی حفاظت کرنے والے ہوں خاص طور پر وعدہ ہے (۲) احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کم سے کم ہر صدی کے سر پر ضرور ظاہر ہوں گے ۔ اے باد بادشاہ افغانستان! اب اللہ تعالٰی آپ کے سینے کو اپنی باتوں کے اں کے قبول کرنے کیلئے کھول دے ! آپ غور فرمائیں کہ کیا اس وقت زمانہ کسی مصلح ربانی کا محتاج ہے یا نہیں ؟ احادیث تو یہ بتاتی ہیں کہ عام طور پر ایک صدی کے سر پر اس قسم کی احتیاج ضرور پیدا ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی شخص مبعوث ہو کر مطالب قرآنیہ بیان کرے اور دین اسلام کی صحیح حقیقت لوگوں پر آشکار کرے اور اس وقت صدی کا سر چھوڑ کر صدی نصف کے قریب گذر چکی ہے لیکن ہم ان احادیث کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں اور صرف واقعات کو دیکھتے ہیں کہ کیا اس وقت کسی مصلح کی ضرورت ہے یا نہیں ۔ اگر اس وقت مسلمانوں اور دیگر اقوام کی حالت ایسی عمدہ ہے کہ وہ کسی ربانی مصلح کی محتاج نہیں تو ہمیں کسی مدعی کے دعوے پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں لیکن اگر اس کے برعکس مسلمانوں کی حالت پکار پکار کر کہہ رہی ہو کہ اگر اس وقت کسی مصلح کی ضرورت نہیں تو پھر کبھی بھی کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہوئی ، یا اگر دشمنان اسلام کی دشمنی اور اسلام کے مٹانے کی کوشش حد سے بڑھی ہوئی ہو تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی شخص آنا چاہئے جو اسلام کو پھر اس کی اصلی شکل میں پیش کر کے دشمنان اسلام کے حملوں کو پسپا کرے اور مسلمانوں کو سچا اسلام سمجھا کر اور ان کے دلوں میں دین کی محبت پیدا کر کے اسلام کی قوت احیاء کو ظاہر کرے ۔ ان سوالوں کے جواب کہ اس وقت مسلمانوں کی حالت کیسی ہے اور ان کے دشمنوں کی چیرہ دستی کس حد تک بڑھی ہوئی ہے میرے نزدیک دو نہیں ہو سکتے ۔ ہر ایک شخص جو کسی خاص مصلحت کو مد نظر رکھ کر حقیقت کو چھپانا نہیں چاہتا یا انسانیت سے اس قدر دور نہیں ہو گیا کہ وہ اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتا اس امر کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس وقت مسلمان عملاً اور عقید تا اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہیں اور اگر کسی زمانے کے