انوارالعلوم (جلد 7) — Page 382
انوار العلوم جلدے ۳۸۲ دعوة الامير کانور سمٹ کر الفاظ میں آجائے اور لوگوں کے قلوب اس کے اثر اور تصرف سے خالی رہ جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ایسے سامان پیدا کرے جن کے ذریعے سے اس کے اثر کو پھر قائم کرے اور اس کے معانی کو پھر ظاہر کرے اور ایک قصے کو مرونی حالت سے نکال کر ایک ৮ کامیاب نسخے کی زندگی اور تازگی بخشے ۔ چنانچہ ان معنوں کی احادیث صحیحہ سے بھی تصدیق ہوتی ہے حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان اللهَ يُبْعَثُ لِهَذِهِ الْا الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا ٢٨ - الله تعالى 2 * ۶۸ اس امت کیلئے ہر صدی کے سر پر ضرور ایسے آدمی کھڑے کرتا رہے گا جو اس کے دین کی اس کے فائدہ اور نفع کیلئے تجدید کرتے رہیں گے۔ یہ حدیث در حقیقت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَانَا لَهُ لَحٰفِظُونَ کی تفسیر ہے اور آیت کے مضمون کے ایک حصے کو عام فہم الفاظ میں رسول کریم ال نے بیان فرما دیا ہے تاکہ ظاہر پرست اور کم فہم لوگ اس آیت کے معانی کو صرف ظاہر پر محمول نہ کریں اور دین اسلام کی حفاظت کے ایک زبردست ذریعے کو نظر انداز کر کے اپنے لئے اور دوسروں کیلئے ٹھوکر کا موجب نہ ہوں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بعثت کا وقت جو ان مقاصد کی اصلاح کیلئے آئیں گے اور جو قرآن کریم کے مطالب اور معانی نہ سمجھنے سے اور کلام الہی سے دور ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوں گے صدی کا سر ہو گا۔ گویا قرآن کریم کی حفاظت کیلئے قلعوں کی ایسی زنجیر بنا دی گئی ہے کہ کبھی بھی اسلام ایسے لوگوں سے خالی نہیں رہ سکتا جو یا تو کسی مجدد کے صحبت یافتہ ہوں یا صحبت یافتوں کے صحبت یافتہ ہوں اور اس طرح وہ خرابی جو دیگر تمام ادیان میں پیدا ہو چکی ہے کہ ان کا مطلب بگڑ کر کچھ کا کچھ ہو گیا ہے اس سے اسلام بالکل محفوظ ہے اور اس وعدے کے مطابق بالکل محفوظ رہے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ (۱) طبیعی یا روحانی ضروریات انسان کی اللہ تعالیٰ ضرور پوری کرتا ہے خصوصاً روحانی ضروریات کو جو بوجہ اپنے وسیع اثر اور بڑی اہمیت کے طبعی ضروریات پر مقدم ہیں اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے تو پیدائش عالم کا فعل لغو ہو وَقَدِ اتَّفَقَ الْحَفِظُ عَلَى تَصْحِيحِ هُذَا الْحَدِيْثِ مِنْهُمُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَالْبَيْهَنِي فِي الْمُدْخَلِ ۔