انوارالعلوم (جلد 7) — Page iv
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ حضرت مصلح موعود کے ۲۳۔ ۱۹۲۲ء کے رشحات قلم و نقار پیر و غیره زیر نظر مجموعه انوار العلوم جلد نمبرے میں احباب کی خدمت میں پیش کئے جا رہے ہیں۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - حسن اتفاق سے مختلف عناد عناوین پر مختلف وقتوں کی یہ نقارہ نیر و کتب دین حق کی ایک بہت بڑی اور بنیادی ضرورت دعوت الی اللہ کو مختلف پیرایوں میں نہایت موثر اور دلکش رنگ میں پیش کرتی ہیں۔ ایک داعی الی اللہ کے لئے بلند کردار اور خوش اخلاق ہونا ضروری ہے۔ ”نجات " اس امر کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف بلانے اور اس کا پیغام پہنچانے کے لئے معروف و متداول علوم کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سچا جذ بہ ولگن اور دعا کے ذریعہ حاصل ہونے والی خدائی تائید و نصرت ضروری ہوتی ہے تاہم مضبوط اور ٹھوس علمی بنیاد اس مقدس فریضہ کی ادائیگی میں ممد و معاون ضرور ہو سکتی ہے۔ تقاریر ثلاثہ میں بیان کئے گئے (۸۲) علوم اس ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ اور عورتوں سے خطاب میں ان علوم کا بیان کرنے میں یہ حکمت بھی مضمر ہے کہ ہماری عورتیں اور انکی وجہ سے ہماری آئندہ اولادیں بھی زیور علم سے آراستہ ہوں۔ راجپوتانہ کے غریب و نادار مسلمانوں کو ہندوؤں کی سوچی سمجھی سازش کے مطابق پھر سے ہندو بنا لینے کے خوفناک د تباہ کن نتائج کو بھانپتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے ارتداد کی اس رو کو روکنے کے لئے ایسی کامیاب و موثر تحریک چلائی کہ اپنوں اور غیروں نے اس کی کامیابی کا اعتراف کیا اس مجموعہ میں دعوت الی اللہ کے اس عظیم کام کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک داعی الی اللہ کے لئے ضروری ہدایات بھی اس مجموعہ میں شامل ہیں۔ اسی طرح اس مجموعہ کی ایک بڑی کتاب کا موف بڑی کتاب کا موضوع ہی ” دعوت الامیر " ہے اس کتاب میں جماعت کے قیام کی غرض وغایت، مسیح و مہدی کے مہدی کے متعلق قرآن و حدیث کی پیش خبریاں اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے عقلی و نقلی ٹھوس دلائل پیش کرتے ہوئے بطور اتمام بطور اتمام حجت آپ نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کے مامور پر ایمان لائیے تا خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو امن دیا جائے اور اسلام کی آواز کو قبول کیجئے تا سلامتی سے آپ کو حصہ ملے میں اس فرض کو ادا کر چکا ہوں۔ جو مجھ پر تھا۔ خدا تعالیٰ کا پیغام میں نے آپ کو پہنچا دیا اب ماننا نہ ماننا آپ کا کام ہے"۔ اس مجموعہ کی آخری کتاب "پیغام صلح" بر صغیر کے اس وقت کے سیاسی و تمدنی حالات میں