انوارالعلوم (جلد 7) — Page 379
انوار العلوم جلدے ۳۷۹ دعوة الامير کا انصرام اپنی ہی ذات کے متعلق وابستہ رکھا ہے۔ قرآن کریم ضرورت زمانہ کے مطابق لوگوں کی ہدایت کے سامان پیدا کرنے کو نہ صرف واجب ہی قرار دیتا ہے بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایسا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو بندوں کا حق ہوتا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی پر اعتراض کرتے کہ جب اس نے ان کے پاس ہلدی نہیں بھیجے تو وہ ان سے جواب کیوں طلب کرتا ہے اور ان کو عذاب کیوں دیتا ہے۔ چنانچہ سورة طه میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَلَوَانَا أَهْلَكْنُهُمْ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ الْيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ ابْتِكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَ وَنَخْخری ۲۵۔ یعنی اگر رسول کی بعثت سے پہلے ہم ان پر عذاب نازل کر دیتے تو یہ ہم پر اعتراض کرتے کہ جب ہم گمراہ تھے اور ہدایت کے محتاج تھے تو تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی تیرے احکام کو قبول کر لیتے اور اللہ تعالی ان کے اس اعتراض کو تسلیم کرتا ہے اور اس کا رد نہیں کرتا بلکہ اس مضمون کو قرآن کریم کے متعدد مقامات پر بیان کر کے اس کی اہمیت کو ثابت فرماتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ تعالی ضرورت کے موقع پر ہادی بھیجے بغیر عذاب نازل کرنے کو ظلم قرار دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔ بمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ وغرتهم يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ابْنِي وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا شَهِدْنَا عَلَى أَنْفُسِنَا ا وَ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا اكْفِرِينَ ذَلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٦٦ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غُفِلُونَ ۲۲۔ اے جنوں اور انسانوں کی جماعتو! کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں ہمارے احکام پڑھ پڑھ کر سناتے تھے اور تم پر جو یہ دن آنے والا تھا اس سے تمہیں ڈراتے تھے ۔ انہوں نے کہا ہم اپنے خلاف آپ گواہی دیتے ہیں اور انہیں والی زندگی نے دھوکا دے دیا اور انہوں نے اپنے خلاف آپ گواہی دے دی کہ وہ کافر تھے ۔ یہ ( رسولوں کا بھیجنا اور کفار پر حجت قائم کرنا) اس لئے کیا کہ تیرا خدا شہروں کو اس حالت میں کہ لوگ غافل تھے ، ظالمانہ طور پر ہلاک نہیں کر سکتا تھا۔ ان آیات کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا ہو شیار کر دینے کے کسی قوم پر حجت قائم کر دینا اور اس کی ہلاکت کا فتوی لگا دینا ظلم ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی قوم ہدایت کی محتاج ہو اور اللہ تعالٰی اس کے لئے ہادی نہ بھیجے لیکن قیامت کے دن اسے سزا دیدے کہ تم