انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 374

انوارا العلوم جلدے ۳۷۴ دعوت الامیر ایک غیر مذہب کی حکومت خیال کر لیتی ہے کہ میں اس سے کتنا ہی اچھا معاملہ کروں مجھے اس سے امن حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی جنگ ظلم یا فساد کی بناء پر نہیں بلکہ مذہب کے اختلاف کی بناء پر ہے ۔ غرض ہم جہاد کے منکر نہیں ہیں بلکہ جہاد کے ان غلط معنوں کے مخالف ہیں جن سے اس وقت اسلام کو سخت صدمہ پہنچا ہے اور ہمارے نزدیک مسلمانوں کی ترقی کا راز اس مسئلے کے سمجھنے میں مخفی ہے اگر وہ اس امر کو اچھی طرح سمجھ! سمجھ لیں کہ جہاد کبیر ۵۷۔ قرآن کریم کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے نہ کہ تلوار سے اور اگر وہ سمجھ لیں کہ مذہب کا اختلاف ہرگز کسی کی جان یا اس کے مال یا اس کی آبرو ۵۸ کو حلال نہیں کر دیتا تو ان کے دلوں میں اسی قسم کے تغیرات پیدا ہو جائیں جن سے خود بخود ان کو سیدھے راستے پر قدم مارنے کی طرف توجہ ہو اور وہ لَيْسَ البر بان تَألُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلكِنَّ الْبَرَ مَنِ اتَّقَى وَأَتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ٥٩ کے ارشاد پر عمل کر کے ترقی کے صحیح اصول کو سمجھیں اور ان پر عمل پیرا ہوں۔ اے بادشاہ افغانستان ! جس طرح آپ کے نام میں امان کی طرف اشارہ ہے اسی طرح خدا کرے کہ آپ کے ذریعہ سے ملک افغانستان اور سرحدوں پر امن قائم ہو ۔ میں نے اصولی طور پر آپ کو جماعت احمدیہ کے عقائد اور ان پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں اور ان کے جو جواب ہیں بتا دیئے ہیں اور اب میں چاہتا ہوں کہ مختصراً بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے دعوے اور اس کے دلائل کے متعلق بھی کچھ بیان کروں تا اللہ تعالی کے سامنے سر خرو گھروں کہ میں نے اس کا پیغام آپ کو پہنچا دیا تھا اور آپ اللہ تعالی کے منشاء پر اطلاع پاکر اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں اور اس کی محبت کو جذب کریں ۔