انوارالعلوم (جلد 7) — Page 370
انوار العلوم جلدے ٣٧٠ دعوت الامير چوتھا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ ہم جہاد کے منکر ہیں۔ مجھے ہمیشہ تعجب آیا کرتا ہے کہ اس قدر جھوٹ انسان کیونکر بول سکتا ہے کیونکہ یہ بات کہ ہم جہاد کے منکر ہیں بالکل جھوٹ ہے ۔ ہمارے نزدیک تو بغیر جہاد کے ایمان ہی کامل نہیں ہو سکتا تمام ضعف جو اسلام اور مسلمانوں کو پہنچا ہے اور ایمان کی کمزوری بلکہ اس کا فقدان جو ان میں نظر آ رہا ہے یہ سب صرف جہاد میں سستی کرنے کی وجہ سے ہے۔ پس یہ کہنا کہ ہم جہاد کے منکر ہیں ہم پر افتراء ہے۔ جب قرآن کریم کے بیسیوں مقامات پر جہاد کی تعلیم دی گئی ہے تو بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے اور قرآن کریم کے شیدائی ہونے کے ہم جہاد کے منکر کس طرح ہو سکتے ہیں ہاں ہم ایک بات کے سخت مخالف ہیں اور وہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر خونریزی اور فساد اور غداری اور ڈاکہ زنی اور غارتگری کی جائے کیونکہ اس سے اسلام کے خوشنما چہرے پر نہایت بد نما داغ لگ جاتا ہے۔ ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ حرص اور طمع اور نفسانیت اور ذاتی فوائد کی خاطر اسلام کے مقدس احکام کو بگاڑا جائے ۔ غرض ہم جہاد کے منکر نہیں ہیں بلکہ اس بات کے مخالف ہیں کہ کوئی شخص ظلم اور تعدی کا نام جہاد رکھ دے۔ اے امیر! آپ اس امر کو سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے محبوب پر کوئی حرف گیری کرے تو محبت کو یہ امر کس قدر برا معلوم ہوتا ہے اور وہ شخص جو اس حرف گیری کا محرک ہو اسے اس پر کس قدر طیش آتا ہے ہمیں بھی ان لوگوں پر شکوہ ہے جو اسلام کو اپنے نام سے بد نام کرتے ہیں کیونکہ وہ مسلمان کہلا کر اسلام سے دشمنی کرتے ہیں آج دنیا اسلام کو ایک غیر مہذب مذہب اور اسلام کے رسول کو ایک جابر بادشاہ خیال کرتی ہے ۔ کیا اس لئے کہ اس نے رسول کریم کی زندگی میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو خلاف تقوی یا خلاف دیانت ہے ۔ نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ مسلمانوں نے اپنے اعمال سے اس کے دماغ میں بعض ایسی باتیں داخل کر دی ہیں کہ وہ ان کو ایک دم کیلئے بھی بھلا نہیں سکتی۔ میرے نزدیک ان خطرناک مظالم میں سے جو رسول مقبول " پر کئے گئے ہیں ایک یہ ظلم ہے کہ خود مسلمانوں نے آپ کو جو رحم مجسم تھے جو ایک چیونٹی کو بھی ضرر دینا پسند نہیں کرتے تھے دشمنان اسلام کے سامنے ایسی شکل میں پیش کیا ہے کہ ان کے دل آپ سے متنفر ہو گئے ہیں اور ان کے دماغ آپ کے خلاف خیالات سے بھر گئے ہیں ۔ میں چاروں طرف سے جہاد جہاد کی آواز سنتا ہوں مگر وہ کونسا جہاد ہے جس کی طرف خدا