انوارالعلوم (جلد 7) — Page 369
۳۶۹ امت میں کُھلا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ظلّ ہو اور آپؐ کی نبوت کی اشاعت کے لئے اور آپؐ کی غلامی اور اطاعت سے حاصل ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰٰ سورۂ اعراف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی اُمت کے ذکر کے دوران میں فرماتا ہے۔قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ o وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ oيَابَنِيْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ(الاعراف آیت ۳۶-۳۴)یعنی ان کو کہہ دے کہ میرے رب نے مجھ پر صرف بری باتیں جو خواہ ظاہری طور پر بری ہوں خواہ باریک نگاہ سے اُن کی برائی معلوم ہو، حرام کی ہیں اور گناہ میں مبتلاہونا اور سرکشی کرنا جو بلاوجہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰٰ سے شرک کرنا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ایسی باتیں کہنا جن کی صدا قت کا تم کو علم نہیں ہے حرا م کیا ہے اور ہر ایک جماعت کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وقت آجاتا ہے وہ اس سے ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔اے بنی آدم! اگر تمہارے پا س میرے رسول آویں جو تم ہی میں سے ہوں اور تمہیں میرے نشان پڑھ پڑھ کر سنا ئیں تو جو لوگ تقویٰ کریں گے اور اصلاح کریں گے، اُن کو نہ آئندہ کا ڈر ہوگا اور نہ پچھلی باتوں کا غم ہوگا، اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اس امت میں سے بھی نبی آئیں گے،کیونکہ امت محمدیہ کے ذکر میں اللہ تعالیٰٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہاے پاس نبی آویں تو اُن کو قبول کرلینا، ورنہ دُکھ اٹھاؤگے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں اِمَّا کا لفظ آیا ہے اور یہ شرط پر دلا لت کرتا ہے کیونکہ حضرت آدم ؑ کے واقعہ خروج کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے یہی لفظ استعمال فرمایا ہے علاوہ ازیں اگر اس کو شرط بھی سمجھ لیا جائے تو بھی اس سے یہ تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبوت کا سلسلہ بند نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے کہ جس امر کی وہ آپ نفی کر چکا ہو اس کو شرط کے طور پر بھی بیان کرے۔قرآن کریم کے شواہد کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا دروازہ مطلقاً مسدود نہیں ، چنانچہ آنے والے مسیح کو آپؐ نے باربار نبی کے لفظ سے یاد فرمایا ہے(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدّجّال وصفتہٗ ومامعہٗ ) اگر آپؐ کے بعد کسی قسم کی نبوت بھی نہیں ہو سکتی تھی تو آپؐ نے مسیح کونَبِیُّ اللہ ِکہہ کر کیوں پکارا ہے۔