انوارالعلوم (جلد 7) — Page 366
انوار العلوم جلدے ۳۶۶ دعوت الامير تردید نہ کی پس ان کا لا نَبِيَّ بَعْدَہ کہنے سے روکنا بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت الا کے بعد نہیں تو آسکتا تھا مگر صاحب شریعت نبی یا رسول کریم اس سے آزاد نبی نہیں آ سکتا تھا اور صحابہ " کا آپ کے قول پر خاموش رہنا بتاتا ہے کہ ہے کہ باقی سب صحابہ بھی ان کی طرح اس مسئلہ کو مانتے تھے۔ یہ , افسوس لوگوں پر کہ وہ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے اور خود ٹھوکر کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ٹھوکر کھلاتے ہیں اور پھر افسوس ان پر کہ وہ ان لوگوں پر جو ان کی طرح ٹھو کر نہیں کھاتے غصے ہوتے ہیں اور انہیں بے دین اور کا ن اور کافر سمجھتے ہیں مگر مومن لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتا وہ خدا کی ناراضگی سے ڈرتا ہے ۔ انسان دوسرے کا کیا بگاڑ سکتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرے گا کہ اس کو مار دے مگر مومن موت سے نہیں ڈرتا اس کیلئے تو موت لقائے یار کا ذریعہ ہوتی ہے ۔ کاش! اگر وہ قرآن کریم پر غور کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ ایک وسیع خزانہ ہے اور ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جو انسان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے والا ہے۔ اس کے اندر روحانی ترقیات کی اس قدر راہیں بیان کی گئی ہیں کہ اس سے پہلے کی کتب میں ان کا عشر عشیر بھی بیان نہیں ہوا اور اگر انہیں یہ بات معلوم ہو جاتی تو وہ کنویں کے مینڈک کی طرح اپنی حالتوں پر خوش نہ ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں تلاش کرنے میں قدم مارتے اور اگر وہ لفظوں کی بجائے دلوں کی اصلاح کی قدر جانتے تو ظاہر علوم کے پڑھ لینے پر کفایت نہ کرتے بلکہ خدا تعالی سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور اگر یہ خواہش ان کے دل میں پیدا ہو جاتی تو پھر ان کو یہ جستجو بھی پیدا ہوتی کہ قرآن کریم نے کس حد تک انسان کیلئے ترقی کے راستے کھولے ہیں اور تب انہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ ایک چھلکے پر خوش ہو کر بیٹھ رہے تھے اور ایک خالی پیالہ منہ کو لگا کر مست ہونا چاہتے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ وہ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں لیکن ان کے دل میں کبھی یہ خواہش نہیں پیدا ہوتی کہ وہ انعام جو اس کے اند ر بیان کئے گئے ہیں ہمیں بھی ہیں ۔ وہ رات دن میں پچاس دفعہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہی پڑھتے ہیں لیکن ان کے دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہو تا کہ وہ کون سا انعام ہے جو ہم طلب کر رہے ہیں۔ اگر وہ ایک دفعہ بھی سمجھ کر نماز پڑھتے تو ان کا دل اس فکر میں پڑ جاتا کہ صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اور الصِّرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے کیا مراد ہے اور پھر ان کی توجه خود بخود سورة النساء کی ان آیات کی طرف پھر جاتی کہ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا