انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 18

۱۸ اور اگر ہم نے اس مشن کو پورا کرلیا تو سمجھ لو کہ ہماری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔روحانی اور جسمانی بیماریوں میں فرق یہ بات اچھی طرح یاد رکھو کہ بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ روحانی بیماریوں کا علاج آہستہ آہستہ ہو جائے گا یہ بہت خطرناک خیال ہے۔میں نے بتایا ہے کہ روحانی اور جسمانی بیماریوں میں مشارکت ہے مگر ان میں بہت بڑا افتراق بھی ہے اور وہ یہ کہ جسمانی بیماری میں اگر مرض معلوم ہو جائے اور اس کا علاج نہ کریں تو گودیر تک علاج نہ کرنے کے سبب سے یہ تو ہو سکتا ہے کہ بیماری بھی ہو جائے یا زیادہ دیر تک علاج نہ کرنے کے سبب سے شازونادر صورتوں میں لاعلاج ہو جائے مگر یہی نہیں ہو گا کہ کسی کی بیماری اس لئے لاعلاج ہو جائے کہ اس نے بیماری کے معلوم ہو جانے پر کیوں علاج نہیں کیا۔خوا ہ بیماری کا علم ہونے پر کوئی علاج نہ کرے مگر جب بھی وہ علاج شروع کرنا چاہے کر سکے گا لیکن روحانی بیماری میں یہ ہوتا ہے کہ جب بیماری کا علم ہو جائے اور پھر علاج نہ کیا جائے بیمار پر عذاب نازل کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اس کے علاج میں دقتیں پیش آجاتی ہیں۔تو روحانی بیماری کا علم ہو جانے کے بعد علاج نہ کرنے سے بیماری مضبوط ہو جاتی ہے اور علاج کا موقع ہی بعض دفعہ نہیں ملتا اور علاج بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔پس روحانی بیماریوں کے علاج سے ہرگز غفلت نہیں کرنی چاہئے۔روحانی حالتیں اور ان کے متعلق احتیاتیں اب میں یہ بتاتا ہوں کہ روحانی حالتیں تین ہوتی ہیں اور ان کے لئے تین احتیاطوں کی ضرورت ہے۔اول یہ کہ وہ علاج جو اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے دوسرے وہ علاج جو دو سروں سے تعلق رکھتا ہے اور تیسرے وہ علاج جو آئندہ کے متعلق ہوتا ہے۔اپنے نفس کے علاج کے لئے پہلی بات جو ضروری ہے وہ اجتناب عن المعاصی یعن گناہوں کا ترک کر دینا ہے۔اس کی بالکل ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کو کوئی مرض لگ گیا ہو اور وہ اس کا علاج کرائے یہ معاصی بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔صرف اپنی ذات سے تعلق رکھنے والے معاصی اول وہ بیماریاں جو اپنی ذات کی پاکیزگی کے خلاف ہوتی ہیں یعنی وہ بیماریاں جن کا اپنی ذات سے ہی تعلق ہوتا ہے غیر پر ان کا اثر نہیں پڑتا ان میں سے موٹی موٹی بیماریاں یہ ہیں۔