انوارالعلوم (جلد 7) — Page 340
انوار العلوم جبہ ہے ٣٢٠ دعوة الامير بیٹھا ہے جسے مسیحی خدا کا بیٹا کہہ کر خدائے قیوم کی ہتک کرتے ہیں۔ اگر ہمیں علم نہ ہوتا تو بیشک ہم ایسی بات کہہ سکتے تھے مگر جب خدا کے فرستادہ نے ہماری آنکھیں کھول دیں اور اس کی توحید اور اس کے جلال اور اس کی شوکت اور اس کی عظمت اور اس کی قدرت کے مقام کو ہمارے لئے ظاہر کر دیا تو اب خواہ کچھ بھی ہو ہم اللہ تعالی کو چھوڑ کر کسی بندہ کو اختیار نہیں کر سکتے اور اگر ہم ایسا کریں تو ہم نہیں جانتے کہ ہمارا ٹھکانا کہاں ہو گا کیونکہ سب عزتیں اور سب مدارج اس کی طرف سے ہیں ہمیں جب صاف نظر آتا ہے کہ مسیح کی زندگی میں ہمارے رب کی ہتک ہے تو ہم اس عقیدہ کو کیونکر صحیح تسلیم کر لیں اور گو ہماری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ کیوں مسیح کی وفات ماننے سے اس کی ہتک ہو جاتی ہے جب اس سے بڑے درجہ کے نبی فوت ہو گئے اور ان کی ہتک نہ ہوئی تو مسیح علیہ السلام کے فوت ہو جانے سے ان کی ہتک کس طرح ہو جائے گی لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی وقت ہمیں اس بات سے چارہ نہ ہو کہ یا خدا تعالیٰ کی ہتک کریں یا مسیح علیہ السلام کی تو ہم بخوشی اس عقیدے کو تسلیم کر لیں گے جس سے مسیح علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہو مگر اس کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے جس میں خدا تعالٰی کی ہنگ ہوتی ہو اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام بھی جو اللہ تعالیٰ کے عُشاق میں سے تھے کبھی گوارا نہ کریں گے کہ ان کی عزت تو قائم کی جائے اور اللہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو صدمہ پہنچایا جائے لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدَ اللَّهِ وَلَا الْمَلَئِكَةُ الْمُقْرَبُونَ " یک ہم خدا کے کلام کو کہاں لے جائیں اور جس منہ سے وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَ قَيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٌ شَهِيدٌ کی آیت پڑھیں جس میں اللہ تعالی خود حضرت مسیح ناصری کی زبانی بیان فرماتا ہے کہ مسیحی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑے ہیں ان کی حیات میں وہ اپنے بچے دین پر ہی قائم رہے ہیں اسی منہ سے یہ کہیں کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں، ہم خدا تعالیٰ کے کلام يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَقِبْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ١٣- کو کس طرح نظر انداز کر دیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع ان کی وفات کے بعد ہوا بیشک وہ جو خدا سے زیادہ فصیح زبان جاننے کے دعویدار ہیں کہہ دیں کہ اس نے متوفی کو جو حضرت مسیح کی وفات کی خبر دیتا ہے پہلے بیان کر دیا ہے اصل میں رافعت پہلے چاہتے تھا مگر ہم تو اللہ تعالیٰ کے ۱۳ :