انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 332

۳۳۲ دعوة الا میر لوگ کسی مخالفت کی وجہ سے حق کو نہیں چھوڑ سکتے - ہم کسی پر فتوی اس بناء پر نہیں لگاتے کہ یہ ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے - بلکہ ہم شریعت کے حکم کے ماتحت اسی بات پر بحث کرتے ہیں جسے انسان آپ ظاہر کرتا ہے - اس کے بعد میں جناب آپ کے سامنے اپنی جماعت کے عقائد پیش کرتا ہوں ` تاکہ جناب غور فرما سکیں کہ ان عقائد میں کونسی بات خلاف اسلام ہے - ۱ - ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مو جود ہے اور اس کی ہستی پر ایمان لانا سب سے بڑی صداقت کا اقرار کرنا ہے نہ کہ وہم و گمان کی اتباع - ۲- ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰٰ ایک ہے` اس کا کوئی شریک نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں` اس کے سوا باقی سب کچھ مخلوق ہے - اور ہر آن اس کی امداد اور سہارے کی محتاج ہے نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی نہ باپ نہ ماں نہ بیوی نہ بھائی وہ اپنی توحید اور تفرید میں اکیلا ہے۔۳ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰٰ کی ذات پاک اور تمام عیوب سے منزّہ ہے اور تمام خوبیوں کی جامع ہے - کوئی عیب نہیں جو اس میں پایا جاتا ہو اور کوئی خوبی نہیں جو اس میں نہ پائی جاتی ہو - اس کی قدرت لا انتہا ہے اس کا علم غیر محدود` اس نے ہر ایک شے کا احاطہ کیا ہے اور کوئی چیز نہیں جو اس کا احاطہ کر سکے، وہ اول ہے وہ آخر ہے وہ ظاہر ہے وہ باطن ہے، وہ خالق جمیع کائنات کا اور مالک ہے کل مخلوقات کا ، اس کا تصرف نہ پہلے کبھی باطل ہوا نہ اب باطل ہے نہ آئندہ باطل ہو گا ،وہ زندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں ،وہ قائم ہے اس پر کبھی زوال نہیں ،اس کے تمام کام ارادے سے ہوتے ہیں نہ کہ اضطراری طور پر ،، اب بھی وہ اسی طرح دنیا پر حکومت کر رہا ہے جس طرح کہ وہ پہلے کرتا تھا` اس کی صفات کسی وقت بھی معطل نہیں ہوتیں ،وہ ہر وقت اپنی قدرت نمائی کر رہا ہے۔۴ - ہم یقین رکھتے ہیں ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور یفعلون ما یومرون کے مصداق ہیں` اس کی حکمت کاملہ نے انہیں مختلف قسم کے کاموں کے لیے پیدا کیا ہے وہ واقع میں موجود ہیں` ان کا ذکر استعارۃ نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے اسی طرح محتاج ہیں جس طرح کہ انسان یا دیگر مخلوقات اللہ تعالیٰٰ اپنی قدرت کے اظہار کے لیے ان کا محتاج نہیں وہ اگر چاہتا تو بغیر ان کو پیدا کرہنے کے اپنی مرضی ظاہر کرتا` مگر اس کی حکمت کاملہ نے اس مخلوق کو پیدا کرناچاہا اور وہ پیدا ہو گئی` جس طرح سورج کی روشنی کے ذریعہ سے انسانی آنکھوں کو منور کرنے