انوارالعلوم (جلد 7) — Page 318
۳۱۸ کو ایسے لوگوں کا اس قدر خیال تھا کہ زکوۃ کا حکم اسی قسم کے اخراجات کے لئے دیا گیا۔چنانچہ معاذ کو جب رسول کریم ﷺنے ایک صوبہ کا حاکم بنا کر بھیجا تو یہ حکم دیا کہ ان الله افترض عليهم صدقه في أموالهم تؤخذ أغنيائهم وترد علی فقرائهم شد خدا تعالیٰ نے ہر مالدار پر صدقہ فرض کیا ہے امیروں سے لیا جائے اور غریبوں کو دیا جائے میں اسلام نے غرباء کی خبر گیری کو جزواعظم قرار دیا ہے۔یہ خود حفاظتی کے متعلق تجاویز میں اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ہندو مسلمانوں میں صلح کیونکرہوسکتی ہے۔صلح کرنے کی خواہش ہے توسب فرقوں سے ہونی چاہئے اول یہ کہ صلح تب تک نہیں ہو سکتی جب تک سب سے نہ ہو۔اگر صلح سے مراد کوئی منصوبہ ہے تو اور بات ہے ورنہ اگر حقیقت میں صلح کرنے کی خواہش ہے تو سب فرقوں سے صلح ہونی چا ہئے۔گورنمنٹ بھی ایک فریق ہے اوران فرقوں میں گورنمنٹ کو بھی شامل کرتا ہوں اب گورنمنٹ انگریزی ہمارے ملک کا ایک جزو ہے اس کو علیحدہ کر کے یہ سمجھنا کہ صلح قائم رہ سکے گی بالکل غلط ہے کیونکہ جب یہ کوشش کی جائے گی کہ کسی فرقہ کو علیحدہ کرکے صلح کی جائے تو وہ فرقہ اپنا سارا زور اس صلح کے توڑنے میں صرف کردے گا۔پس اس وقت تک صلح قائم نہیں رہ سکتی جب تک سب کی صلح نہ ہو اور جب تک گورنمنٹ بھی اس میں شامل نہ ہو۔میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ گورنمنٹ جو کچھ کرتی ہے سب ٹھیک کرتی ہے میرے نزدکی بعض اوقات گورنمنٹ سخت غلطیاں کرتی ہے اور ایسے موقع پر خود میں نے ایسے ایسے سخت الفاظ میں گورنمنٹ کو توجہ دلائی ہے کہ جو ضروری تھے (سخت سے مراد گالیاں نہیں کیونکہ اس سے اسلام منع کرتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ وضاحت اور صفائی سےگورنمنٹ کی غلطی پیش کی گئی) اور میں نے دیکھا ہے بالعموم گورنمنٹ نے ان باتوں کو منظور کرلیا ہم گورنمنٹ کے خوشامدی نہیں پس میں خوشامدیوں میں سے نہیں ہوں اور نہ یہ پسند کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کی خوشامد کریں۔کیونکہ میرے نزدیک خوشامدی انسان ہی نہیں ہو تا حیوان ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی گرا ہوا۔اور میں یہ