انوارالعلوم (جلد 7) — Page 313
انوار العلوم جلدے ۳۱۳ پیغام صلح بنائی گئی گو افسوس ہے کہ ابھی تک اس کمیٹی میں کچھ کام نہیں ہوا۔ اب اگر شدھی کو روکنے کی تجویز پاس ہو جاتی تو اس سے اسلام کو بڑا بھاری نقصان پہنچتا۔ اور ہم جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلام غیر مذہب کے لوگوں کو اپنی صداقت اور حقانیت کے زور کھینچتا ہے یہ جھوٹا ہو جاتا کیونکہ ہندوؤں کے سامنے عملاً مان لیا جاتا کہ ایسا نہیں ہو سکتا یہ اسلام کے لئے نہایت نازک موقع تھا جو ہمارے زور دینے کی وجہ سے ٹل گیا۔ ہے → تیسری تجویز یہ کی گئی ہے کہ تحقیقات کی جائے تحقیقات کی جائے فساد کا بانی کون ہے؟ فساد کا بانی کون ہے اور کس کی طرف سے زیادتی ہوتی ہے؟ یہ تجویز سب سے ضروری تجویز تھی مگر بعد از وقت تھی کیونکہ مسلمان لیڈ ریہ فیصلہ کر چکے تھے کہ ابتداء مسلمانوں نے کی ہے اور زیادتی ان کی ہے ایسی صورت میں اس قسم کی کمیٹی کے بنانے سے کیا فائدہ ہو سکتا تھا۔ یہ بہت اچھا کام تھا بشر طیکہ ہندو مسلمان لیڈر اپنی رائے ا محفوظ رکھتے اور پھر واقعات سے جو کچھ ثابت ہوتا اسے پیش کرتے۔ چوتھی تجویز یہ کی گئی کہ سول گارڈ بنائے جائیں جو فسادات کو سول گارڈ بنائے جائیں روکیں یہ ضروری تھی مگر لیڈروں کا آپس میں صلح کرنا اس کے لئے ضروری تھا۔ موجودہ حالت میں یہ سب تجویزیں ایسی ہیں جن سے صلح نہیں ہو سکتی۔ ہے۔ صلح کی حقیقی تجویزیں اب میں وہ تجویزیں پیش کرتا ہوں جو اسلام سے مستنبط ہوتی ہیں اور جن سے صلح ہو سکتی پہلی چیز جس سے صلح ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو مضبوط کریں۔ مسلمان اپنے آپ کو مضبوط کریں میں پنڈت مدن موہن مالو یہ صاحب کی اس رائے سے بالکل متفق ہوں کہ جب تک کوئی قوم خود محفوظ نہیں ہوتی دوسری قوم سے صلح قائم نہیں رکھ سکتی۔ پس میں ان کی اس رائے کے خلاف نہیں ہوں بلکہ متفق ہوں مگر یہ کہتا ہوں کہ ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں کو زیادہ مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ اور صلح کے لئے مضبوط ہونا روک نہیں بلکہ ضروری ہے۔ دیکھو فرانس اور انگلینڈ میں صلح ہے تو