انوارالعلوم (جلد 7) — Page 312
انوار العلوم جلدے ۳۱۲ پیغام صلح ہو سکتا ہے۔ ایسے جوش اس وقت پیدا کئے جاسکتے ہیں جبکہ گورنمنٹ سے کوئی امید نہیں ہوتی مگر جب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی ہمارا مقدمہ گورنمنٹ کے پاس پہونچے گا تو لوگ کس طرح گورنمنٹ کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اول تو ہم اس کے خلاف ہیں کہ سول نافرمانی کی جائے مگر یہ موقع تو ایسا ہے کہ قطعاً اس کے خلاف ہیں۔ دوسری کوشش یہ کی گئی ہے کہ شدھی کی تحریک اور اس کے شدھی روک دی جائے مقابلہ کی کو ششوں کو روک دیا جائے ۔ حال میں کانگریس کا جو کا اجلاس دہلی میں ہوا تھا اس میں یہ بات پیش ہوئی تھی مگر ہم حیران تھے کہ کس طرح روک سکتے ہیں سب سے زیادہ شدھی کے مقابلہ میں ہمارے آدمی کام کر رہے ہیں ہم سمجھوتہ کئے بغیر کس طرح اس تجویز کو پاس کر سکتے ہیں۔ جن ایام میں کانگریس ہو رہی تھی قادیان میں ہماری ایک مجلس ہو رہی تھی جس میں میں نے اپنے دوستوں کو کہا کہ ان سمجھوتہ کرنے والوں نے ایک بات کو نظر انداز کیا ہے مگر جب وہ فیصلہ کرنے لگیں گے تب انہیں معلوم ہو گا کہ کیا غلطی کر رہے ہیں۔ یہ کہہ کر میں گھر گیا تو مجھے ایک تار ملا جو مسٹر محمد علی ، حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر انصاری کی طرف سے تھا جس میں لکھا تھا کہ شدھی کے متعلق سمجھوتہ کرنے کے لئے اپنے قائم مقام بھیجیں۔ اس پر میں نے آدمی بھیج دیئے جب ہمارے آدمی گئے تو معلوم ہوا کہ وہی بات ہوئی جو میں نے کہی تھی۔ یہ قرار پا چکا تھا کہ دونوں قو میں اپنے آدمی علاقہ ارتداد سے واپس بلا لیں اور صرف یہ سوال باقی تھا کہ پہلے کون بلائے اور کون لوگ اول اس علاقہ کو خالی کریں۔ مولوی صاحبان نے یہ کہدیا تھا کہ ہمارے آدمی واپس آجائیں گے ۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوا کہ احمدیوں کا کیا ہو گا؟ اس پر مسٹر شردھانند نے کہا کہ احمدی بھی اپنے آدمی بلالیں۔ اگر ان کے آدمی واپس آجائیں گے تو ہم بھی اپنے آدمی بلالیں گے ورنہ نہیں۔ اس وقت سمجھوتہ کرنے والوں کو ہمارا خیال پیدا ہوا اور ہمارے قائم مقاموں کو بلایا گیا۔ اس پر میں نے اپنے آدمیوں کو بھیج دیا۔ جنہوں نے جا کر کہا کہ کسی مذہب کی اشاعت کو نہیں روکا جاسکتا۔ اگر شدھی کو روکا جائے گا تو ہندو اسلام کی اشاعت کو بھی روکیں گے اس لئے یہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ ناجائز ذرائع جو استعمال کئے جاتے ہوں ان کو روکنا چاہئے۔ اس کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی جائے جو تحقیقات کرے کہ کس فریق نے کیا کیا نا جائز ذرائع استعمال کئے ہیں۔ اس تجویز کی پنڈت مالویہ اور لالہ شردھانند صاحب نے مخالفت کی مگر مسلمان لیڈروں کو اس امر کی اہمیت معلوم ہو چکی تھی انہوں نے زور دیا اور کمیٹی