انوارالعلوم (جلد 7) — Page 311
۳۱۱ اسی طرح ایک گاؤں ہے جو اردگرد کے علاقہ پر اثر رکھتا ہے اس کے دو با اثر آدمیوں کو تحصیلدار نے بلا کر کہا کہ تمہارے گاوں میں فلاں کنواں جو سرکاری روپیہ سے بنا ہے اس کے متعلق میں کہدوں گا کہ چونکہ اس کا پانی کھاری نکلا ہے اس لئے روپیہ نہ وصول کیا جائے تم سارے گاؤں کو شدھ کرادو- وہ سرکردہ لوگ تھے انہوں نے اس گاؤں کے لوگوں کو شدھ کرادیا۔اب تحصیلدار نے جو کچھ کہا تھا اس کا ثبوت اس طرح ملتا ہے کہ گاؤں والوں نے اس کو ان کے متعلق درخواست دی۔ادھر تحصیلدارنے سفارش کی کہ ان سے روپیہ نہ لیا جائے اور ادھر یہ روایت ہے کہ اس شرط پر شدھ ہونے کے لئے کہا گیا تھا۔ایک اور جگہ ہمارے مبلّغ ارتداد کو روکنے کے لئے گئے وہاں کے لوگ دوبارہ مسلمان ہوگئے لیکن وہاں تھانیدار نے جا کر لوگوں کو کہا کہ تم مجرموں میں شامل کر لئے جاؤ گے اس پر ان لوگوں نے ڈر کر کہدیا کہ ہم مسلمان نہیں ہوئے۔اس کے علاوہ اس علاقہ میں ایسے مضامین اور ٹریکٹ اسلام کے خلاف شائع کئے گئے جو اس قدر گندے تھے کہ مسلمان ان کو سن بھی نہیں سکتے تھے۔ان میں رسول کریم ﷺ اور اسلام کو ایسی گندگی اور ناپاک گالیاں دی گئیں ہیں کہ کوئی شریف انسان ان کو پڑھ نہیں سکتا۔اس سے مسلمانوں کو جس قدر صدمہ پہنچاجائز تھا۔اسی طرح سنگھٹن کے انتظام کو فسادات کے ساتھ ایسا قریب کر دیا گیایعنی ملتان وغیرہ کے واقعات سے اتنا قریب شروع کیا گیا کہ مسلمانوں کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ ہمارے مٹانے اور نقصان پہنچانے کے لئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے۔اگر ملتان کے فساد کے متعلق ہندو دھواں دھار تقریریں نہ کرتے تو ملتان کا فساد ملتان تک ہی محدود رہتامگراس فساد کو ہندوؤں نے اتنا پھیلایا اور مالابار کے واقعات کو اس کے ساتھ اس طرح ملا دیا کہ مسلمانوں نے سمجھا ہندو ہم کو ذلیل اور برباد کرنا چاہتے ہیں۔اس پر ستم یہ ہوا کہ دونوں قوموں میں صلح کرانے والے خود ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس طرح کوئی صلح کرانے والانہ رہا۔اس طرح فسادات اور جھگڑے پیدا ہو گئے۔اختلافات مٹانے کے لئے ناکام کوششیں اب ان اختلافات کو مٹانے کے لئے جو کوششیں کی جارہی ہیں وہ یہ ہیں کہ۔سول نافرمانی (۱) گورنمنٹ کے خلاف جوش پیدا کر کے سول نافرمانی کی جائے لیکن ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جب آپس میں لڑائی ہو تو گو ر نمنٹ کے خلاف کون کھڑا