انوارالعلوم (جلد 7) — Page 300
انوار العلوم جلدے دیا۔ ۳۰۰ اس سے پیغام صلح معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی مذہب دنیاوی معاملات میں مانع اتحاد نہیں اختلاف کی وجہ اختلاف کی وجہ سے تعلقات اور سلوک منقطع نہیں ہو جاتا بلکہ اس لڑائی کے زمانہ میں کافر رشتہ داروں سے سلوک کئے جاتے تھے۔ پس مسلمانوں کی طرف سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ ہمیں ان سے مذہبی اختلاف ہے اس لئے ہم ان سے دنیاوی معاملات کے متعلق اتفاق نہیں رکھ سکتے اور اس بارے میں ہماری ان سے صلح نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی مذہب بھی یہ نہیں کہے گا کہ دنیاوی معاملات میں دوسرے مذاہب کے لوگوں سے اتحاد نہ کرو بلکہ ان سے لڑتے جھگڑتے رہو۔ یہ بات فطرت صحیحہ کے خلاف ہے جو مذہب یہ تعلیم دیگا اس کو لوگ چھوڑ دیں گے مگر اس کی یہ بات نہ مانیں گے۔ پس جبکہ مذہبی اختلاف دنیاوی ہندو مسلمانوں میں کیوں اتحاد قائم نہیں رہا۔ معاملات میں اتحاد کے خلاف نہیں اور نہ روک ہے تو سوال ہوتا ہے کہ پھر کیوں ہندوؤں مسلمانوں میں فساد ہے ۔ ایک طرف تو دنیاوی ضروریات ان کو مجبور کرتی ہیں کہ آپس میں اتفاق و اتحاد رکھیں اور مل کر رہیں اور دوسری طرف ہر ایک مذہب یہ کہتا ہے کہ ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہو تو کیوں ان میں فساد ہوتے ہیں اور کیوں ان کا اتحاد قائم نہیں رہتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو مسلمانوں میں جو اتحاد اور صلح ہوئی تھی وہ ایسی بنیاد پر نہ تھی جو ہمیشہ قائم رہتی بلکہ وقتی ضرورتوں اور جوشوں سے فائدہ اٹھا کر صلح کی گئی تھی اور جو کام اس طرح کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ ہمیشہ خراب نکلتا ہے ایسا ہی اس صلح کے متعلق ہوا۔ جب لوگوں میں جوش نہ رہا تو صلح بھی نہ رہی۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا اور صلح کسی مضبوط بنیاد پر کی جاتی تو یہ صلح کم از کم اتنے وقت تک تو چلتی جتنے وقت دنیا میں صلح چلا کرتی ہے۔ بھائی بھائی میں صلح ہوتی ہے اور ٹوٹ بھی جاتی ہے۔ قو میں آپس میں صلح کرتی ہیں اور پھر لڑائی بھی کرتی ہیں مگر ان کی صلح اتنی جلدی نہیں ٹوٹتی۔ جتنی جلدی ہندو مسلمانوں کی صلح ٹوٹی۔ دیکھو مرنے کو تو ہر ایک انسان مر جاتا ہے لیکن جب کوئی جوانی کی عمر میں مرتا ہے تو اس کے متعلق بہت زیادہ افسوس کیا جاتا ہے اسی طرح اگر ہندو مسلمانوں کی صلح اپنا وقت گزار کر ٹوٹتی تو اتنا افسوس نہ ہو تا لیکن چونکہ یہ قبل از وقت ٹوٹ گئی اس لئے زیادہ افسوس کے قابل ہے۔