انوارالعلوم (جلد 7) — Page 299
انوار العلوم جلدے ۲۹۹ پیغام صلح نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء اس سے زیادہ گہرا تعلق رکھنے کا نہیں بلکہ یہ تو میں نے بطور مثال کہا ہے۔ ورنہ خدا تعالی تو چاہتا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اسلام کی تعلیم آپس کے سلوک کے متعلق قرآن کریم نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے آپ کے تعلقات اور سلوک میں کوئی فرق نہیں آنا چاہئے۔ چنانچہ آتا ہے۔ وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدُكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۔ خدا تعالٰی فرماتا ہے اے مسلمان ! اگر تیرے ماں باپ مشرک ہوں تو تجھے یہ نہیں چاہئے کہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ دے ان سے کوئی سلوک نہ کرے۔ ان سے ہر طرح کا اچھا سلوک کر اور ان کے احکام کی اطاعت کرہاں شرک کے معاملہ میں ان کی بات نہ ماننا کیونکہ تیری عقل نے اس بارے میں اور فیصلہ کیا ہے اور ان کی عقل نے اور مگر دنیاوی معاملات میں تیرا فرض ہے کہ تو ان سے نیک سلوک کرے۔ تو شرک جس کو اسلام نے بد ترین گناہ قرار دیا ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی کہا ہے کہ اگر تیرے ماں باپ مشرک ہوں تو بھی ان سے تعلق منقطع نہ کر بلکہ ان سے حسن سلوک کر اور اچھے تعلقات رکھ ۔ یہ تو قرآن کریم کا حکم ہے اب ہم رسول کریم اے کے متعلق دیکھتے ہیں۔ ایک دفعہ حضرت ابو بکر کی لڑکی کے پاس جو رسول کریم ا کی بیوی کی بہن تھیں ان کی والدہ آئی تو انہوں نے رسول کریم اس سے پوچھا کہ میری ماں آئی ہے اور چاہتی ہے کہ میں اس سے کچھ سلوک کروں مگر وہ کافر ہے کیا میں اس سے سلوک کر سکتی ہوں۔ آپ نے فرمایا :- ” ہاں کر یہ دنیاوی معاملہ ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ پھر حضرت عمر اللہ جیسے انسان جن کے متعلق مسلمان بھی سمجھتے ہیں کہ خشونت والے تھے اور اپنی پہلی حالت میں تلوار لے کر رسول کریم کو قتل کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے ۔ ان کے متعلق آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان کو ایک جبہ دیا جو ریشمی تھا۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے ایک دفعہ آپ کو ریشمی جبہ دیا تھا مگر آپ نے اس کو پسند نہ فرمایا تھا اب مجھے آپ نے ریشمی جبہ دیا ہے کہ میں اس کو پہن لوں۔ آپ نے فرمایا میں نے مانے پہننے کے لئے نہیں دیا کسی کو تحفہ دید و یا بیچ ڈالو ۔ اس پر انہوں نے اپنے اس بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا اور کافر تھا دے