انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 296

انوار العلوم جلدے ۲۹۶ پیغام صلح میرا آج کا لیکچر جیسا کہ اس اشتہار سے ظاہر ہے جو اس لیکچر کے پیش آمدہ مشکلات کا حل متعلق شائع ہوا اس امر پر ہے کہ ہمارے ملک میں موجودہ مشکلات جو اتحاد و اتفاق کے متعلق پیدا ہو گئی ہیں اور وہ روکیں جو صلح و آشتی میں رونما ہیں وہ کسی طرح دور ہو سکتی ہیں اور ان کا حل کیا ہے اور ہندوستان کی مختلف قوموں میں کس طرح صلح اور اتحاد ہو سکتا ہے۔ اور اس کے متعلق مسلمانوں کا کیا فرض ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایسا مضمون ہے جو ان تمام جماعتوں مضمون کا تعلق تمام قوموں سے سے تعلق رکھتا ہے جو ہندوستان میں رہتی ہیں یعنی اس کا تعلق ہندوؤں، سکھوں، مسلمانوں وغیرہ سب سے ہے اور پھر یہی نہیں میں ان جماعتوں میں گورنمنٹ کو بھی شامل کرتا ہوں کیونکہ وہ بھی ایک جماعت ہے جس کا ہمارے ملک کے نفع و نقصان سے تعلق ہے ہمارے نقصان کے ساتھ اس کا نقصان وابستہ ہے اور ہمارے نفع کے ساتھ اس کا نفع وابستہ ہے۔ چونکہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو سیاسی معاملات میں اپنا سارا مذہبی نقطہ خیال وقت صرف کرتے ہیں بلکہ میرا وقت مذہبی معاملات میں صرف ہوتا ہے اس لئے میں اس بارے میں وہی نقطہ پیش کروں گا جو مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ سب سے پہلے سامعین کی توجہ اس طرف فتنے سے بچو کہ وہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے پھیرنا چاہتا ہوں کہ سب سے زیادہ فتنہ کا باعث افراد کے وہ معاملات ہوتے ہیں جنہیں قومی سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ افراد کے معاملات ایسے نہیں ہوتے جیسے قومی معاملات ہوتے ہیں۔ افراد کے معاملات کو قومی بنا لینے کی وجہ سے فتنہ پرداز لوگوں کو موقع ملتا ہے کہ قوموں میں فتنہ اور فساد پیدا کر دیں اور اتحاد و اتفاق نہ ہونے دیں ہیں وجہ ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے الْفِتْنَةُ اشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۳۔ محتمل بہت برا فعل سمجھا جاتا ہے اور قاتل کو لوگ نہایت بری نظر سے دیکھتے ہیں مگر ہماری کتاب بتاتی ہے کہ بے شک قاتل بہت برا ہوتا ہے اور قتل بہت برا فعل ہے مگر فتنہ بہت ہی برا فعل ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والا بہت ہی برا ہوتا ہے کیوں؟ اس لئے کہ اس سے لاکھوں اور اربوں جانیں چلی جاتی ہیں لیکن قتل سے ایک یا چند جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ ایک فتنہ پرداز شخص ایسی بات کر دیتا ہے کہ جس سے قو میں لڑ پڑتی ہیں اور جماعتوں میں تفرقہ اور شقاق پیدا ہو جاتا ہے۔ فتنہ باز لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تو معمولی بات