انوارالعلوم (جلد 7) — Page 11
۱۱ دکھاؤ تو یہ کہاں سے دکھائے جائیں گے لیکن یاد رہنا چاہئے کہ اضافت سے کسی لفظ کے معنی بدل نہیں جایا کرتے۔پس خاتم کے معنی خاتم النبین میں اور نہیں ہو جائیں گے بلکہ وہی رہیں گے جو لغت میں ہیں۔پھر کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے خاتم النبین محاورہ ہو اور اس کے معنی محاورہ میں آخری نبی لئےجاتے ہوں مگر یہ محاورہ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ جب اہل عرب میں نبوت کا عقیدہ ہی نہیں تھا تو وہ محاورہ کس طرح بناتے اور اگر ان میں یہ محاورہ تھا تو مولوی علی صاحب کو ثابت کرنا چاہئے کہ عتبہ، شیبہ، ابو جہل وغیرہ یا ان کے آباء يا عرب کے دوسرے کفاریہ محاو رہ بولا کرتے تھے اگر نہیں تو یہ محاور ہ کیونکربنا؟ پس اہل عرب اگر یہ لفظ بولتے تھے اور سمجھتے تھے کہ خاتم کالفظ جب نبی کے ساتھ مل جائے تو اس کے معنی آخری نبی کے ہوتے ہیں تو یہ مولوی صاحب کا فرض ہے کہ وہ اہل عرب کے کلام سے اس کی نظیر پیش کریں لیکن اگر اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی تو کیو نکر خاتم کے وہ معنی لئے جاسکتے ہیں جو لغت کے خلاف ہیں۔ہاں یہ محاوره قرآن کریم کے بعد کابن سکتا ہے مگر یہ قرآن کا مفسر نہیں ہو سکتا کیونکہ بعد کا محاورہ پہلے کلام کا مفسر نہیں ہوا کرتا۔مولوی محمد علی صاحب کا چیلنج منظور میرے اس جواب پر کہ لغت میں آخری نبی خاتم النبین کے معنی نہیں ہیں مولوی محمد علی صاحب نے مجھے ایک چیلنج دیا ہے ان کے مضمون کے ایک حصہ کا جواب تو شیخ عبدالرحمان صاحب مصری نے بیان کیا ہو گا اور چھپ کر شائع ہو جائے گا مگر چیلنج جو انہوں نے دیا ہے اس کو میں قبول کرتا ہوں۔ـ مولوی صاحب لغت سے خاتم القوم نکال کر کہتے ہیں کہ میں یہ ثابت کروں کہ خاتم کی اضافت کسی جاندار جماعت کی طرف ہو تو اس کے معنی مہر کے ہوں گے۔مگر یہ معنی کہیں کبھی نہیں ہو سکتے۔مولوی صاحب لکھتے ہیں خاتم القوم کے معنی اس قوم کا آخری آدمی ہی ہوتے ہیں اور اگر غور کیا جائے تو خاتم القوم کے اور معنی ہو بھی کیا سکتے ہیں۔یہ مطلب تو ہو سکتا ہی نہیں کہ ساری قوم نے ایک مہر بنوا کر رکھ چھوڑی ہو۔پس یہ محاوره بتاتا ہے کہ خاتم النبین کے معنی صرف آخری نبی ہی کے لئے رہ جاویں گے۔مولوی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ خاتم القوم محاورہ ہے اور خاتم النبین بھی اسی طرح کا ایک