انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 261

انوار العلوم جلدے ۲۶۱ تحریک شد هی ملکا تا کہ یہاں رہ کر وہاں جانے کی نسبت زیادہ خدا کے دین کی خدمت کر سکیں۔ تم نے اپنے عمل سے کام کیا جس کو ہم نے اپنی نیت سے کیا اس لئے ہم ایک ہی میدان میں کھڑے تھے۔ انسانی دعائیں سے کیا اور تدبیریں جو ہم کر سکتے ہیں کیں اور انسان جس قدر بلند کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اتنا کیا لیکن ہمارے لئے اصل خوشی کی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ اب خدا نے تم سے نیا حساب شروع کر دیا ہے اس لئے اس نئی کاپی کو صاف رکھنے کی کوشش کرو تاکہ مرنے کے وقت تمہاری حالت ویسی ہو ۔ انت جیسے ایک عربی شاعر نے کہا ہے۔ الذي ولدتك امك باكيا والناس حولك يضحكون سرورا فاحرص على عمل تكون اذا بكو في وقت موتك ضاحكا مسرورا ۴۲ شاعر کہتا ہے کہ وہ ہے کہ جب پیدا ہوا تو تو رو رہا تھا اور لوگ خوشی سے ہنس رہے تھے۔ کہ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے۔ اب تم کو چاہئے کہ لوگوں سے اس کا بدلہ لے اور مومن شریفانہ بدلہ لیتا ہے پس تو اس طرح بدلہ لے کہ ایسے عمل کر کہ جب مرنے لگے تو تو نہیں رہا ہو کہ میں اپنی ذمہ داری کو پورا کر کے چلا ہوں اور لوگ رو رہے ہوں کہ ایسا نفع رساں انسان ہم سے جدا ہو رہا ہے۔ پس تم اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ایسے ہی بن جاؤ یہی ساری نصائح کی جڑھ اور تمام کامیابیوں کا گر ہے ۔ اب میں دعا کرتا ہوں دوسرے احباب بھی کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو آئندہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی توفیق دے اور جن سے کوتاہیاں ہوتی ہیں ان کی کوتاہیاں معاف کرے اور جو اپنی مجبوریوں کی وجہ سے نہیں جاسکے ان کی نیتوں کے مطابق ان سے سلوک کرے۔ (الفضل ۶ ۔ جولائی ۱۹۲۳ء)