انوارالعلوم (جلد 7) — Page 252
اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی علی رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ – ھوالناصر تبلیغ ملکانا کے لئے روپیہ کی ضرورت تمام احباب کو معلوم ہے کہ ہندوستان میں ایک مسلمان کہلانے والی قوم آریہ لوگوں کا شکار ہو کر اسلام کو خیرباد کہہ رہی ہے۔اس قوم کی اپنی حالت گو بہت گری ہوئی ہے اور موجودہ حالت میں وہ اسلام کے لئے باعث طاقت ثابت نہیں ہو رہی۔جبکہ سب سے اہم سوال جو ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایک مثال بھی ارتداد کی ایسی قائم ہو گئی کہ فوج در فوج لوگ اسلام سے خارج ہو جائیں تو اسلام کی شوکت کو ایسا صدمہ پہنچے گاکہ اس کا ازالہ انسانی طاقت سے بالا ہو جائے گا اور آج جو کام لا کھوں سے ہو سکتا ہے پھر کروڑوں روپیہ سے بھی نہ ہو سکے گا۔جس طرح آج سے کچھ پہلے جو کام چند پیسوں کے خرچ سے ہو سکتا تھا اب ہزاروں روپوں کے خرچ سے بھی نہیں ہو سکتا۔پس اس رو کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر خاموش و ہی شخص رہ سکتا ہے جس کا دل اسلام کے دردسے بالکل خالی ہو یا جو درد تو رکھتا ہو لیکن اس کو قوموں کے اتار چڑھاؤ کے علم اور قلوب کے تغیرات کے لوازموں سے بالکل واقفیت نہ ہو اور یہ مصیبت پہلی مصیبت سے کم نہیں ہے۔اس وقت ہماری جماعت کے ۸۰ آدمی اس علاقہ میں کام کر رہے ہیں اور اللہ کے فضل سے نہایت کامیاب کام کر رہے ہیں۔اور کوئی جماعت ہندوستان کی ایسی نہیں جو آدمیوں یا انتظام کے لحاظ سے ہماری جماعت کا مقابلہ کر سکے بلکہ تمام دوسری جماعتیں متفقہ طور پر بحیثیت مجموعی بھی ہماری جماعت کے کام کا مقابلہ نہیں کر سکیں۔الحمدلله على ذلك لیکن احباب کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے وسیع پیمانے پر کام بلا خرچ کے نہیں ہو سکتا اور ہزا روں روپیہ ماہوار کے خرچ سے ہی اتنی بڑی جماعت کے کام کو منظّم رکھا جاسکتا ہے ورنہ باوجود