انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 250

انوار العلوم جلدے ۲۵۰ تحریک شد می ملکانا حرکات پر ہی نظر رکھتے ہوں گے۔ پھر اجنبیت وغیرہ کی وجہ سے بعض مقامات سے ہمارے مبالغوں کو نکال بھی دیا گیا۔ وہ کئی کئی دن سڑکوں پر پڑے رہے اور ان کو فاقے کرنے پڑے ۔ بعض کو مہینہ مہینہ بھر چنے چبا کر گزارہ کرنا پڑا ۔ رمضان کے مہینہ میں لوگ کس طرح اپنے گھروں میں سامان کرتے ہیں مگر اس مہینہ میں ہمارے مبلغوں کو ستوؤں پر گزارہ کرنا پڑا ۔ وہ لوگ چھوت چھات کرتے تھے ان کا کھانا پکانے کے لئے بھی تیار نہ تھے اور ہماری تاکید تھی کہ ان سے مت مانگو اور لحاظ میں بھی ان سے کوئی خدمت نہ لو۔ پھر ادھر آریوں کی کوششیں تھیں ادھر علماء دیوبند وغیرہ بھی ہماری مشکلات میں اضافہ کر رہے تھے۔ وہ لوگوں کو کہتے تھے کہ ان کے ساتھ ملنے سے بہتر ہے کہ آریہ ہو جاؤ ۔ غرض ایسی ایسی بے شمار مشکلات تھیں جن میں وہ لوگ گئے اور انہوں نے ان مشکلات میں کام کیا۔ انہوں نے جو کام کیا ہے اور جن حالات میں کیا ہے ان کو پڑھ کر اور ان کی قربانی کو دیکھ کر رقت آتی ہے۔ انہوں نے اصل مشکلات کا مقابلہ کیا ہے اب اگر تم کو فتح حاصل ہو تو اس فتح کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی ہے اور اس فتح کا سہرا اصل میں ان ہی کے سر ہو گا اس لئے ضروری ہے کہ تم ان کے کام کو حقارت سے نہ دیکھو بلکہ چاہئے کہ تم ان کے شکر گزار ہو کہ ابتدائی مشکلات کو انہوں نے تمہارے لئے صاف کر دیا ہے ۔ آتا ہے مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يشكر الله " جو لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم ان کا شکر ادا کرو۔ میں تو بے تعلق کی طرح ہوں میرے لئے جیسے وہ ہیں ویسے ہی تم ہو ۔ میرا تم سب سے ایک جیسا رشتہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب تمہارے ذریعہ جو کامیابی ہو گی اس میں حصے ان کے ہوں گے اور ایک حصہ تمہارا کیونکہ وہ ان تمام ابتدائی مشکلات کو حل کر چکے ہیں جو ابتداء میں ہوا کرتی ہیں۔ پس تمہارے لئے اب وہ مشکلات نہیں ہوں گی۔ انہوں نے جو آسانیاں پیدا کی ہیں ان کو تم استعمال میں لاؤ اس لئے جس جگہ جاؤ ان کے کام کی قدر کرو ان کے لئے دعا کرو اور اپنے لئے اور اس کام کے لئے بھی دعا کرو۔ اس کے بعد میں نصائح کو ختم کرتا ہوں ۔ پہلے جو وفود کو صدقہ کی رقوم دی جاتی تھیں اس میں علاوہ راستہ میں خیرات کرنے کے وہاں کے خیراتی امور کے لئے بھی رقم فراہم ہو جاتی تھی مگر اس کے لئے اب ہم نے علیحدہ انتظام کیا ہے اس لئے اب جو صدقہ دیا جاتا ہے وہ تھوڑا ہے اور صرف اس لئے ہے کہ راستہ میں وفد کی طرف سے صدقہ کیا جائے (اس پر حضور نے اپنے گھر کی طرف سے کچھ رقم بطور صدقہ دی اور دوسرے احباب نے بھی کچھ نقدی پیش کی۔) یہ صدقہ راستہ میں