انوارالعلوم (جلد 7) — Page 245
۲۴۵ نصائح مزے لینے کے لئے پڑھتے ہیں اور اس پر غور نہیں کرتے حالانکہ ان کو یہ سوچناچا ہیے کہ ہم ان نصیحتوں کو کس طرح اپنی روزانہ زندگی پر وارد کر سکتے ہیں۔آپ لوگوں کو کچھ ہدایتیں مطبوعہ دی گئی ہیں کچھ زبانی سنادی گئی ہیں یا سمجھادی جائیں گی ان سب کے مطابق اپنی زندگی بناؤ۔اگر تم ان ہدایتوں کے مطابق کام کرو گے تو انشاء اللہ کامیاب ہوگئے۔بہت سے لوگ الفاظ کو پڑھتے ہیں اور ان پر سے یونہی گذر جاتے ہیں غور نہیں کرتے کہ ان کے نیچےکون سے معنے ہیں وہ الفاظ کو دیکھتے ہیں مگر ان کے معنوں کو نہیں دیکھتے کم الفاظ کو پڑھوان کے مطلب کو سمجھو اور ان مطالب کو اپنی زندگی کے اوپر حاوی کرو۔بہت سی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مگر اپنے اندر بہت سے معانی رکھتی ہیں اور ان کے بڑے اثرات ہوتے ہیں۔میں جب چھوٹا بچہ تھا تو یہ پڑھ کر حیران ہوتا تھا کہ نیوٹن نے جو کام کیا ہے اسے بڑا کیوں کہا جاتا ہے۔نیوٹن نے کشش ثقل معلوم کی تھی۔وہ باغ میں بیٹھا ہوا تھا اس نے دیکھا کہ ایک سیب شاخ سے گرا ہے اس نے غور کیا کہ یہ سیب اوپر جانے کی بجائے نیچے کی طرف کیوں آیا ہے اس امرپر غور کرتے کرتے اس نے کشش ثقل کا پتہ لگا لیا۔مجھے جب بڑے ہو کر معلوم ہوا کہ اس دریافت سے علوم میں لانتہاء ترقی ہوئی ہے تو نیوٹن کی دریافت کی قدر معلوم ہوئی۔اس بات کی دریافت سے علوم کی ترقی ہزاروں گنی ہو گئی ہے۔دیکھوبات معمولی تھی مگر اس کے اثرات کتنے اہم ثابت ہوئے۔دوسری ہدایت یہ ہے کہ مومن بزدل نہیں ہو تا چونکہ ہم یہ کہتے رہتے ہیں کہ فساد نہ کرو اس لئے خیال آتا ہے کہ بعض لوگوں میں بزدلی نہ پیدا ہو جائے یاد رکھو کہ مومن وسط میں رہتا ہے۔ایک ہوشیار عورت وہ نہیں جو خاوند کے یہ کہنے پر کہ آج کھانے میں نمک زیادہ ہے دوسرے وقت بالکل پھیکا کھانا پکا لائے۔اس پر تو وہ ضرور ہے کہے گا کہ کیا پھیکا ہے اور اس وقت عورت کا یہ کہنا فضول ہو گا کہ پہلے کہتے تھے نمک زیادہ ہے اب کہتے ہیں کم ہے کیونکہ خاوند نے جب زیادہ نمک معلوم کیا تو زیادہ کہا اور جب کم معلوم کیا تو کم کہا۔پس جس طرح عورت کا اعتراض غلط ہے اسی طرح "فساد نہ کرو" کی تعلیم سے یہ نتیجہ نکالنا کہ بزدلی اختیار کرو غلط ہے’’ فساد نہ کرو“ کے صرف یہ معنے ہیں کہ بلاوجہ لڑائی میں نہ پڑو لیکن اگر دین کے لئے جان دینے کی بھی ضرورت ہو تو اس وقت جان دینا ذلّت اور فساد نہیں ہو گا۔کیا صحابہ فسادی تھے کہ ضرورت کے وقت جان دیدیتے تے نہیں۔پس یاد رکھو کہ چونکہ ایثارو