انوارالعلوم (جلد 7) — Page 244
انوار العلوم جلدے ۲۴۴ تحریک شد ھی ملکانا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ احمدی مجاہدین سے خطاب فرموده ۲۰ جون ۱۹۲۳ء) تشهد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ آج سے تین مہینہ پہلے ہم لوگ اسی راستہ پر اس پہلے وفد کو چھوڑنے آئے تھے جو علاقہ ملکانا میں تبلیغ کے لئے روانہ ہوا تھا۔ ان لوگوں کی کیا حالت تھی اور کیا ہوئی ان پر کیا گذری انہوں نے کیا کام کیا اس کے متعلق چند ہدایتیں دینے کے بعد ذکر بعد ذکر کروں گا۔ پہلے چند ہدایتیں دینا چاہتا ہوں جن کا یا د رکھنا آپ لوگوں کے لئے ضروری ہے۔ پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ کوئی ہدایت مفید نہیں ہو سکتی جب تک اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ قرآن کریم میں ساری ہدایتیں ہیں۔ لیکن اس زمانہ میں مسلمانوں کے لئے مفید نہیں ۔ بلکہ قرآن نقصان دہ ہو رہا ہے اس لئے نہیں کہ قرآن میں کوئی نقص آگیا ہے بلکہ اس لئے کہ لوگ خراب ہو گئے اور اس کی طرف توجہ نہیں رہی۔ مصر کے ایک عالم نے لوگوں کی حالت پر تمسخر کرتے ہوئے اور یہ بتانے کے لئے کہ لوگ کس طرح قرآن شریف کو مانتے ہیں لکھا ہے کہ یورپ کے لوگ کہتے ہیں قرآن کا کوئی فائدہ نہیں مگر ان کو کیا معلوم ہے قرآن کے بڑے فوائد ہیں دیکھو یہ فائدہ کیا کم ہے کہ ساری عمر قرآن نہ پڑھو لیکن جب مرجاؤ تو قبر پر قرآن پڑھا جاتا ہے پھر یہ کیا کم فائدہ ہے کہ اسے خوبصورت غلافوں میں لپیٹ کر زینت کے طور پر گھر میں رکھا جاتا ہے اور جب کوئی شخص کسی غلط بات کو نہ مانتا ہو تو اس کو جھوٹی بات کا یقین دلانے کے لئے قرآن کو ہاتھ میں لے کر یقین دلایا جاتا ہے تو اس طرح قرآن با وجود مفید ہونے کے لعنت کا طوق ہو گیا۔ یہ بہترین چیز تھی مگر اس کے غلط استعمال سے نقصان ہو رہا ہے۔ اسی طرح دیکھو رسول کریم ال بشارت عظمی تھے مگر کن کے لئے ان کے لئے جو مانتے ہیں مگر ابو جہل کیلئے تو بشارت نہ تھے اس کے لئے آپ انذار تھے ۔ پس ہدایت و ہی مفید ہو سکتی ہے جو عمل میں آئے لیکن افسوس ہے کہ اکثر لوگ