انوارالعلوم (جلد 7) — Page 237
۲۳۷ کچھ نہیں۔میں چاہئے کہ محبت کی دھار سے ان کی نفرت کی کھال کو چیرا جائے اور پیار کی رسی سے ان کو اپنی طرف کھینچا جائے۔۲۲- وہ لوگ غیر تعلیم یافتہ ہیں پس کبھی ان سے علمی بحثیں نہ کرو بالکل موٹی موٹی باتیں ان سے کرو۔موٹی موٹی باتیں یہ ہیں آریہ مذہب کے بانی نے کرشن جی کی (جن کی وہ اپنے آپ کو اولاد کہتے ہیں اور ان سے شدید تعلق رکھتے ہیں جو بڑے بزرگ تھے ،ہتک کی ہے۔نیوگ کا مسئلہ خوب یاد رکھو اور ان کو سمجھاؤ کہ تم راجپوت ہو کر ایسی تعلیم کے پیچھے جاسکتے ہو۔مرکز میں ستیارتھ پرکاش رہے گی اگر حوالہ مانگیں تو دکھا سکتے ہو۔ان کو بتایا گیا ہے کہ تمہارے آباء و اجداد کو زبردستی مسلمان کر لیا گیا تھا۔ان سے کہو کہ راجپوت تو کسی سے ڈرتا نہیں یہ بالکل جھوٹ ہے اس بات کو ماننے کے تو یہ معنے ہوں گے کہ تمہارے باپ دارا راجپوت ہی نہ تھے۔کیا اس قدر قوم راجپوتوں کی اس طرح دھرم کو خوف یالالچ سے چھوڑ سکتی تھی۔کہو کہ یہ بات برہمنوں نے راجپوتوں کو ذلیل کرنے کے لئے بنائی ہے۔پہلے ان لوگوں نے تمہاری زمینوں کو سود سے تباہ کیا اب یہ لوگ تمہاری قومی خصوصیت کو بھی مٹانا چاہتے ہیں۔یہ بنئے تو اپنے ایمان پر قائم رہے اور تم راجپوت بہاد رہو کر بادشاہوں سے ڈر گئے یہ جھوٹ ہے تمہارے باپ داداوں نے اسلام کو سچا سمجھ کر قبول کیاتھا۔ان کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنی قوم سے آملوان کو سمجھاؤ کہ لاکھوں راجپوت مسلمان ہو چکے ہیں۔پس اگر ملنا ہے تو یہ ہندو مسلمان ہو کر تم سے مل جاویں اور یہ ملاپ کیسا ہوا کہ قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر دور کے تعلق والوں سے جاملو۔ان کو بتاؤ کہ کرشن جی کی ہم مسلمان تومہما کرتے ہیں اور ان کو اوتار مانتے ہیں لیکن آریہ ان کی ہتک کرتے ہیں اور ان کو گالیاں دیتے ہیں۔تمہارے سامنے کچھ اور کہتے ہیں اور الگ کچھ اور کہتے ہیں۔ان کو یہ بتاؤ کہ ہندو تو تم کو ہندو کر کے بھی چھوت چھات کرتے ہیں اور کریں گے چند لوگ لالچ دلانے کو تمہارے ساتھ کھاپی لیتے ہیں ورنہ باقی قوم تم سے برتاؤ نہیں کرے گی چاہو تو چل کراس کا تجربہ کرلو لیکن مسلمان قوم کو اپنا بھائی بکھتے ہیں۔