انوارالعلوم (جلد 7) — Page 210
انوار العلوم جلدے ۲۱۰ تحریک شد هی ملکانا اور میں اللہ تعالی کے فضل سے امید کرتا ہوں کہ یہ مطالبہ ایک دو ہفتہ میں ہی پورا ہو جائے گا۔ تا کہ یہ یہ لوگ جو تین ماہ کیلئے اپنی زندگی وقف کر رہے ہیں ان کیلئے میں نے کچھ شرطیں مقرر کی ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک ان شرطوں کے ماتحت اپنے آپ کو وقف کر رہا ہے۔ وہ شرطیں یہ ہیں: ا وہ آمد و رفت کا کرایہ خود دیں گے۔ وہ ان تین ماہ میں جن میں تبلیغ کا کام کریں گے اپنے کھانے پینے کا بھی خرچ خود برداشت کریں گے۔ ۔ اس زمانہ کار کردگی میں اپنے اہل و عیال کے اخراجات کیلئے بھی کسی قسم کی مدد کے طلبگار نہیں ہوں گے۔ اپنے افسروں کی ماتحتی ایسے ہی طریق پر کریں گے جیسے کہ فوجی سپاہی اپنے افسروں کی فرمانبرداری کرتے ہیں خواہ کیسا ہی مشکل کام ان کے سپرد ہو اور خواہ کیسی ہی سختی کا معاملہ ان سے کیا جائے وہ اس کی پرواہ نہیں کریں گے۔ وہ پیدل چلنے ، بھوکے رہنے ، ننگے پاؤں چلنے ، جنگلوں میں سونے اور اپنے مخالفوں کے مظالم سہنے کیلئے ہر طرح تیار ہوں گے۔ ان شرطوں کے قبول کرنے والے لوگ ہی صرف اس کام کیلئے مفید ہو سکتے ہیں اور میرے نزدیک دوسرے فرقوں کو بھی چاہئے کہ ایسے ہی آدمی مہیا کرنے کی کوشش کریں ورنہ جو لوگ بہ نیت حصول ملازمت اس کام کیلئے آگے بڑھے وہ چنداں مفید نہ ہوں گے۔ ہمارے وفد میں تنخواہ دار لوگ صرف وہی ہوں گے جو مستقل طور پر وہاں رہیں گے۔ ایسے لوگ چونکہ ایک لمبے عرصہ تک وہاں رکھے جائیں گے ان سے اپنا خرچ برداشت کرنے کی شرط نہیں کی گئی کیونکہ یہ ایسی بات ہے جس کا پورا کرنا ان کیلئے نا ممکن ہے۔ مگر یہ تنخواہ بھی بالکل نام کی تنخواہ ہے مثلاً تین گریجوائیں جو گھر بار والے ہیں بن بیا ہے نہیں وہ صرف تیں تھیں روپے ماہوار پر کام کرتے ہیں۔ وہ لوگ جن کی درخواستیں اس وقت تک میرے پاس آچکی ہیں ہر طبقہ کے ہیں ان میں دو درجن کے قریب مولوی ہیں، جاگیردار بھی ہیں ، بیرسٹر بھی ہیں، پلیڈر بھی ہیں، دو ایم اے اور ایک درجن سے زیادہ گریجوائیں ہیں۔ کچھ لوگ سنسکرت کے واقف ہیں، ایڈیٹر ان اخبار ہیں، تاجر ہیں، زمیندار ہیں، سرکاری ملازم ہیں غرض ہر قسم کے لوگوں پر