انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 209

انوار العلوم جلدے ۲۰۹ تحریک شد هی ملکانا اعْوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ ایک کروڑ مسلمان ارتداد کی چوکھٹ پر امام جماعت احمدیہ کی طرف سے پیغام اتحاد میں اپنے اشتہار بعنوان ” ساڑھے چار لاکھ مسلمان ارتداد کیلئے تیار ہیں “ اس بات کا اعلان کر چکا ہوں کہ ملکانوں اور دیگر اقوام جاٹ گوجر وغیرہا کے ارتداد کے فتنہ کے روکنے کیلئے احمدی جماعت ہر ایک قربانی کرنے کے لئے تیار ہے اور یہ بھی وعدہ کر چکا ہوں کہ اگر مختلف فرقہ جات سنی شیعہ اہلحدیث اپنے فرض کو اور کام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنے مال اور اپنی تعداد کے تناسب سے اس کار خیر میں حصہ لینے پر آمادہ ہوں تو میں بھی اپنی جماعت کی طرف سے تمھیں مبلغ اور پچاس ہزار روپیہ اس کام کے لئے مہیا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ آج میں اس اشتہار کے ذریعہ سے تمام ان لوگوں کو جو اس کام سے دلچسپی رکھتے ہیں مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے اس وعدہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے میں نے عملی کارروائی شروع کر دی ہے اور سردست میں نے اپنی جماعت سے ڈیڑھ سو آدمی مانگے ہیں جو تین تین ماہ کیلئے فتنہ ارتداد کے روکنے کے لئے اپنی جانیں وقف کریں اور باوجود اس کے کہ میری شرائط وقف کنندگان کے لئے نہایت سخت تھیں میں خوشی سے اظہار کرتا ہوں کہ میرے اعلان کے بعد ایک ہفتہ کے اندر اندر ایک سو ساٹھ آدمی کی درخواستیں میرے پاس پہنچ چکی ہیں۔ اور چونکہ بعد کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کام اس سے بھی زیادہ سخت ہے جو سمجھا گیا تھا اور موقع اس سے بھی زیادہ نازک ہے جو پہلے خیال کیا گیا تھا اور چونکہ یہ درخواستیں جو میرے پاس پہنچی ہیں ان میں سے اکثر یعنی ایک سو چالیس ۱۴۰ صرف قادیان کی ہی ہیں اور بیرونی جماعتوں کو بوجہ دیر سے خبر ملنے کے اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کا موقع نہیں ملا جس سے ان کے دلوں کو صدمہ پہنچے گا اس لئے میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ڈیڑھ سو کی تعداد کو بڑھا کر میں تین سو آدمی کا مطالبہ کروں