انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 199

انوار العلوم جلدے ۱۹۹ تحریک شد می ملکانا نام ہمارے پاس نہ ہوں جنہوں نے ا۔ نے اپنے آپ کو پیشک آپ کو پیش کیا ہو اس وقت تک ہم اطمینان سے کام نہیں کر سکتے۔ ممکن ہے ہمیں سینکڑوں آدمی بھیجنے پڑیں۔ ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا وند روانہ ہو۔ کیونکہ اس وقت تک ہم نے چلنا ہے جب تک کہ دشمن تھک کر اور ہار کر نہ بیٹھ جائے۔ بچپن کی ایک مثال مجھے یاد ہے گو وہ کچھ اچھی نہیں لیکن اس سے مطلب ضرور حل ہو جاتا ہے۔ چھوٹی عمر میں میں اس جگہ کھڑا تھا جہاں اب لنگر خانہ ہے اور مہمان خانہ کے پاس جو لا ہوں کے جو گھر ہیں ان کے قریب سے دو آدمیوں نے کنکوے چڑھائے وہ آپس میں لڑا رہے تھے۔ وہ دونوں ڈور چھوڑتے جاتے تھے اور کنکوے بہت دور نکل گئے ۔ میری تو نظر بھی کمزور تھی جب میری نظر سے غائب ہو گئے تو میں نے دوسرے لڑکے سے جو میرے ساتھ تھا پوچھا اتنے دور کیوں چلے گئے ہیں۔ اس نے کہا میں مقابلہ ہے جو بھی ڈور دینے میں بڑھ جائے گا وہ جیت جائے گا تو ایسا مقابلہ جو در پیش ہے اس کے لئے استقلال ہی سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ۔ اور یاد رکھو کہ باطل کبھی مقابلہ پر نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ باطل کے معنی ہی ہلاک ہونے والے کے ہیں۔ قائم حق ہی رہتا ہے کیونکہ حق کے معنے قائم رہنے کے ہیں۔ لیکن اس کے لئے استقامت ضروری ہے۔ جیسے حضرت مسیح موعود بھی فرمایا کرتے تھے۔ الْإِسْتِقَامَةُ فَوْقَ الكَرامَةِ -- اگر ہم استقلال دکھائیں گے تو وہ لوگ اسی طرح تھک کر واپس آجائیں گے ، جس طرح نان کو اپریشن والے تھک کر اپنے اپنے کاموں پر واپس آ رہے ہیں۔ وکیل اپنی وکالت شروع کر دیں گے۔ پڑھانے والے اپنے سکولوں میں چلے آئیں گے۔ لیکچرار گھروں کو واپس آجائیں گے اور جو جماعت میدان سے ہٹے گی نہیں وہ احمدی جماعت ہی ہو گی۔ اس وقت ہمارے سامنے جو کام ہے وہ بہت بڑا کام ہے لیکن ہندوستان کیا اگر ساری دنیا سے بھی مقابلہ ہو تو بھی ہمیں کیا پرواہ ہے۔ جب ہماری مدد کرنے والا خدا تعالیٰ ہے تو ہم نے خدا تعالیٰ کے سہارے پر لڑنا ہے۔ لیکن یاد رکھو خدا تعالی کی مدد بھی اس وقت تک نہیں آتی جب تک استقامت نہ اختیار کی جائے کیونکہ استقامت کی وجہ سے خدا کی مدد آتی ہے۔ جب تک یہ رنگ ہماری جاعت دکھانے کیلئے تیار نہ ہو۔ جب تک سارے کے سارے لوگ یہ فیصلہ نہ کر لیں کہ جب تک دشمن کو مقابلہ سے نہ ہٹائیں گے اس وقت تک نہ ہٹیں گے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ پس چاہئے کہ جس کے دل میں اب تک اس کام میں شامل ہونے کی تحریک نہ ہوئی