انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 198

۱۹۸ ہیں۔باقیوں کے متعلق تو ابھی یہ حالت ہے کہ ان تک پہنچنے کے لئے پہاڑوں کو تراش تراش کر دروازے بنانے کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں اور صرف میں ہی ان لوگوں کی فکر ہونی چاہئے جو مرتد ہو رہے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ غیراحمدی وہاں جاکر جو کچھ بھی کوشش کررہے ہیں اتنا کرنا بھی ان کا حق نہیں کیونکہ اصل میں جن کا خزانہ لٹ رہا ہے وہ ہم ہی ہیں ہمارا وہ خزانہ اور ذخیرہ ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔پس ہر ایک احمدی کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس امت کادا روغہ مقرر کیا ہے اور جس طرح دا روغہ اور دوسرے لوگوں کے فرائض میں فرق ہوتا ہے اسی طرح ہمارے اور دوسرے مسلمانوں کے فرائض میں فرق ہے۔خدا تعالی ٰکے مامور کو ماننا خود خد مت اسلام کیلئے مامور ہو جانا ہے۔جیسے کہتے ہیں ہر کہ خدمت کرو او مخدوم شد - خدا تعالیٰ تو اسے مقرر نہیں کرتا مگر خدا کے مامور کو ماننے کی وجہ سے وہ مامور ہو جاتا ہے تو ہم خد مت اسلام کے لئے مامور ہیں نہ اس لئے کہ الہام کے ذریعہ خدا نے ہمیں کہا ہے بلکہ اس لئے کہ ہم نے خود اس کے ایک مأمور کو مانا ہے۔پس جب ہم خدمت اسلام کے لئے مامور ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ اسلام سے بالکل جدا ہونے والوں کو بچائیں اور اگر کوئی اس کام کا اہل ہے تو وہ ہم ہی ہیں۔پس اگر کسی کے دل میں خیال ہو کہ ہمارا کیا حرج ہے ہم کیوں ان لوگوں کو بچائیں تو وہ اس خیال کو نکال دے۔اور سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع اس لئے دیا ہے کہ دوسروں پر ہماری فوقیت ثابت کرنا چاہتا ہے اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے۔اس امر کی ضرورت بتادینے کے بعد کہ ہمارے لئے یہ موقع نہایت اہم ہے نہ صرف مذہبی لحاظ سے ہی بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی اس میں ہمارے لئے بڑے فوائد ہیں اس وقت میں پھر تحریک کرتا ہوں کہ ایسے مواقع ہر روز نہیں ملا کرتے۔جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے دو اس موقع کو نہ جانے دے۔شیطان سے مقابلہ کرنا ہماری جماعت کے ذمہ لگایا گیا ہے اور شیطان ہماری بغل میں بیٹھا ہے۔بیشک عیسائیت کا فتنہ بہت شدید ہے مگر اس کیلئے کوئی چونکہ بہت دور سے آتے ہیں اس لئے وہ اپنے ہجوم اور کثرت سے غلبہ حاصل نہیں کرتے بلکہ اور ذرائع استعمال کرتے ہیں۔مگر ہندو جو ہمارے پاس بیٹھے ہیں بیس بائیس کروڑ ان کی تعداد ہے اس لئے ان کا فتنہ بہت سخت ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ موجودہ فتنہ ایک دو ماہ کی بات ہوگی اور میں نہیں جانتا کہ کتنے آدمیوں کی اس کے لئے ضرورت ہوگی یہ حالات بتائیں گے۔مگر میں یہ جانتا ہوں کہ جب تک ایسے کافی آدمیوں کے