انوارالعلوم (جلد 7) — Page 197
انوار العلوم جلدے 194 تحریک شد ھی ملکانا دوسرے نبی کا آنا۔ تو ایسے مواقع شماز و نادر ہی ملا کرتے ہیں پس نہ اس وجہ سے ہمیں اس فتنہ کے انسداد کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ محمد ا کے خدام اس میں مبتلاء ہوئے ہیں بلکہ اس لحاظ سے کہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے اس میں مبتلاء ہو گئے ہیں۔ ہماری جماعت جو الگ ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کوئی نئی جماعت ہے بلکہ یہ اس لئے الگ ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو اسلام اور محمدال سے اپنا تعلق جتاتے ہیں مگر سچا تعلق نہیں رکھتے ان سے الگ ہو جائے ۔ اگر یہ لوگ اپنا کوئی ایسا نام رکھ لیں کہ اس کا اسلام سے تعلق نہ ظاہر ہو تو پھر ہم احمدی نہ کہلائیں تو گویا ہم اسلام سے اپنا تعلق ممتاز طور پر ظاہر کرنے کے لئے احمدی کہلاتے ہیں یا یوں کہو کہ ان کو ممتاز کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔ پس یہ امتیاز کو ثابت کرنے کا موقع ہے ۔ احمدی ہم اس لئے کہلاتے ہیں کہ ان لوگوں سے الگ ہو جائیں تاکہ ان کی وجہ سے ہمارے مقابلہ میں کوئی اسلام پر طعن نہ کرے۔ ورنہ ہمارا نام تو وہی ہے کہ سچا مسلم۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس موقع پر خاموش نہ رہیں ۔ پھر عقلا بھی اس کے بڑے بڑے اعلیٰ نتائج ثابت ہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ لوگ ہمارے لئے خزانہ اور کان کے طور پر ہیں جس پر دشمن قابو پانا چاہتا ہے کبھی کوئی یہ پسند نہ کرے گا کہ اس کی کسی چیز پر اگر دشمن نے قبضہ کیا ہو تو اسے چور چرا کر لے جائیں کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ میری چیز ہے اور میرے ہی پاس اسے آنا چاہئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسی رنگ کا ایک فیصلہ کیا تھا۔ ان کے پاس دو عورتیں مقدمہ لائیں۔ ان میں سے ایک کے بیٹے کو بھیڑیا کھا گیا تھا اس کا خاوند کہیں گیا ہوا تھا اور بعد میں ہی اسے بچہ پیدا ہوا تھا اس نے سمجھا خاوند آکر ناراض ہو گا اور چونکہ وہ اپنے بچے کو پہچانتا نہیں اس لئے دوسرے بچہ کو ہی اپنا سمجھ لے گا اس پر اس نے دوسری عورت کا بچہ اٹھا کر اپنا بنالیا۔ یہ جھگڑا جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس گیا تو انہوں نے کہا اچھا اس کا فیصلہ اس طرح کرتا ہوں کہ بچے کو آدھا آدھا کر کے دونوں کو دے دیتا ہوں۔ جس ماں کا بچہ نہیں تھا اس نے تو کہا ہاں یہ ٹھیک انصاف ہے ایسا ہی ہونا چاہئے۔ اس نے سمجھا میرا بیٹا تو مر ہی گیا ہے مگر اس کا بھی تو زندہ نہ رہے گا۔ لیکن جس کا بچہ تھا اس نے کہہ دیا کہ یہ میرا بیٹا ہی نہیں اس کا ہے اسے دے دیا جائے اور اس طرح اس نے بچہ کو مرنے سے بچالیا۔ تو مسلمان کہلانے والے کو خراب ہیں لیکن ہمارے لئے دوسروں سے بہت اقرب خزانہ