انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 196

۱۹۶ طرح کرے گا تو اپنے آپ کو جھو ٹا ثابت کرے گا کہ اسے تیرنا تو آتا نہیں یونہی کہتا تھا کہ بڑا تیراک ہوں۔ایسے موقع پر اس کا یہ فرض تھا کہ فوراً کود پڑے اور ڈوبنے والے کو بچا کر اس سے اقرار کرائے کہ میں سچاہوں تو جو کچھ میری نسبت کہتا تھا وہ جھوٹ تھا۔ایسا ہی اب غیراحمدی ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ کیا کر سکتے ہیں ان کے سب دعوے جھوٹے ہیں۔ایساتوہوا ہے کہ عیسائیوں وغیرہ کے مقابلہ میں ہماری کامیابی کو دیکھ کر بعض جگہ غیر احمدیوں نے ہماری تائید کی ہے مگر ہماری کامیابی کا ایسانظارہ ان کے سامنے کبھی نہیں آیا کہ جس کو دیکھ کر ان کی عقلیں حیران ہو گئی ہوں اور انہوں نے دیکھا ہو کہ کوئی قوم کی قوم جو ہلاک ہورہی ہو اس کو بچانے کی ہم نے تجویز کی ہو مگر اب خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے ایسا موقع دیا گیا ہے اور اس وقت وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ احمدی کہاں ہیں؟ کیوں فتنہ ارتداد کو روکنے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے۔کوئی ان سے پوچھے احمدیوں کو تو پہلے ہی اسلام سے خارج کر چکے ہو پھرده جہاں بھی ہوں ان سے تمہیں کیا مگر ان کا ہمیں بلانا اور اس موقع پر امداد کے لئے شور مچانا بتاتا ہے کہ ان کے دل مانتے ہیں کہ اگر کوئی جماعت خد مت اسلام کر سکتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نصرت کسی جماعت کو مل سکتی ہے تو وہ احمدی جماعت ہی ہے۔پس جب یہ ایسا موقع ہے کہ ہمارا سخت ترین دشمن بھی ہر طرف سے مایوس ہو کر ہماری طرف نگاہیں ڈال رہا ہے اور گھبرا کرا کر پوچھ رہا ہے کہ احمدی کہاں ہیں اور وہی احمدی جن کو یہ لوگ مرتدوں اور کافروں سے بھی بد تر کہتے تھے انہیں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ وہ کیوں ہماری مدد کے لئے نہیں آتے تو اس موقع کو جانے نہیں دینا چاہئے۔اسے زریں موقع کو جانے دینا جو ہماری زندگی میں ہمیں میسر ہوا ہے نہایت ہی افسوسناک بات ہوگی کیونکہ آج ہمارے لئے موقع ہے کہ ہم ان لوگوں پر ثابت کردیں کہ آج تک تم لوگوں نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا وہ ظالمانہ تھا اور ہمارے خلاف تمهاری جتنی باتیں تھیں وہ سب جھوٹی تھیں اور اب ہم ان سے فوری طور پر اقرار کرا سکتے ہیں کہ ہمارے مقابلہ میں تم لوگ ناراستی پر تھے۔کہتے ہیں زندگی میں ہر انسان کو ایک خاص موقع ملا کر تا ہے اور اگر ہم اس کو سمجھیں تو ہمارے لئے یہ ایسا ہی موقع ہے۔نہ اس لئے کہ ایک قوم تباہ ہونے لگی ہے جسے نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس لئے کہ اس قوم کو تباہ ہونے سے مسیح موعود کی جماعت ہی بچا سکتی ہے۔پس خوب اچھی طرح سن لو کہ ایسے موقعے بار بار نہیں ملا کرتے۔ممکن ہے پھر بھی کبھی ایسا موقع آجائے مگر اس کا آنا ایسا ہی مشکل ہے جیسے ایک نبی کو ماننے سے محروم رہنے والوں کے لئے