انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 193

انوار العلوم جلدے ۱۹۳ تحریک شد هی ملکانا بات یہ ہے کہ ایک ہوتی ہے عداوت اور ایک ہوتی ہے حقیقت - عداوت میں بے شک یہ لوگ آریوں سے عیسائیوں سے سکھوں سے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے بڑھ کر ہیں مگر حقیقت میں سب سے زیادہ ہمارے قریب ہیں۔ ہیں۔ ہمارے لیکچر ہوتے ہیں اس میں آریہ عیسائی وغیرہ شور نہیں ڈالتے بلکہ بعض اوقات وہ مدد بھی دیتے ہیں مگر جانتے ہو نتیجہ کیا ہوتا ہے آریہ تو آریہ ہی گھر چلے جاتے ہیں اور عیسائی عیسائی ہی واپس لوٹ جاتے ہیں مگر یہ جو ہمیں مارتے بھی ہیں گالیاں بھی دیتے ہیں لیکچر کے روکنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اگر ان کو موقع ملے تو قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کریں انہیں میں سے ہمارے ساتھ شامل ہوتے ہیں یہاں یہ لوگ جو بیٹھے ہیں ان میں کتنے ہیں جو آریوں اور عیسائیوں سے آئے اور کتنے ہیں جو ان لوگوں سے آئے جو دشمنی اور عداوت میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ بات یہی ہے کہ یہ لوگ حقیقت میں ہمارے بہت قریب ہیں اور ان کے ساتھ بہت سی باتوں میں ہمارا اشتراک ہے رسول کریم ﷺ کو یہ لوگ مانتے ہیں قرآن کریم کو یہ لوگ مانتے ہیں اور ان پیشگوئیوں کو یہ لوگ مانتے ہیں جن میں مسیح موعود کے آنے کا ذکر ہے مگر دوسرے لوگ حقیقت کے لحاظ سے ہم سے بہت دور ہیں۔ ا اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھو کہ کوئی قوم بڑھ نہیں سکتی جو دو تین صدیوں میں دنیا کو گھیر نہیں لیتی۔ اسلام نے دنیا پر قبضہ پہلی ہی دو تین صدیوں میں کیا عیسائیت نے بھی پہلی ہی تین صدیوں میں دنیا کو گھیرا بدھ مذہب نے بھی پہلی تین صدیوں میں دنیا کو قبضہ میں کیا زرتشتی مذہب نے بھی پہلی تین صدیوں میں ہی دنیا کو گھیرا ، سکھوں نے بھی پہلی تین صدیوں میں ہی قبضہ جمایا ۔ غرض کہ کوئی قوم اور کسی مذہبی ریفار مر کی جماعت ایسی نہیں جس نے پہلی تین صدیوں میں کامیابی حاصل نہ کی ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نبیوں کے قرب کی وجہ سے جو اخلاص لوگوں میں ہوتا ہے وہ بعد میں نہیں ہوتا۔ دیکھو قرآن کریم تو اب بھی وہی موجود ہے جو رسول کریم کے وقت میں تھا مگر اب کیوں یہ مسلمانوں پر وہ اثر نہیں کرتا جو رسول کریم" کے قرب کے زمانہ میں کرتا تھا۔ رسول کریم اے کے چھوٹے چھوٹے فقرہ پر جس طرح صحابہ کرام مذبوح جانور کی طرح تڑپ اٹھتے تھے آج آپ کے بڑے سے بڑے ارشاد پر بھی ان کی یہ حالت کیوں نہیں ہوتی۔ اس وقت قرآن کریم کی چھوٹی سے چھوٹی سورۃ اثر پیدا کرتی تھی آج سارا قرآن کھول کر پڑھنے سے بھی وہ اثر نہیں پیدا ہو تا اس کی وجہ یہی ہے کہ ان لوگوں کو رسول کریم ﷺ کا قرب حاصل تھا جو ان لوگوں کو حاصل نہیں ہے۔ تو پہلے لوگ جو کام کرنا چاہیں کر لیتے ہیں اور پچھلے لوگ