انوارالعلوم (جلد 7) — Page 192
۱۹۲ متعلق نہیں نکلتا- و ہ دیانند جس کے قلم کی تیز دھارنے کسی نبی کو بھی نہ چھوڑا جس نے ہر نبی کو دغاباز، مکار، شہوت پرست، لوگوں کے مال کھاجانیوالا وغیرہ وغیرہ کہا۔وہ دیانند جس نے قرآن کریم پر بسم اللہ سے لیکر والناس تک اعتراض کئے اور اعتراض بھی وہ جن میں سنجیدگی اور متانت کا شائبہ بھی نہیں پایا جاتا۔مشہور لیڈر مضمون لکھتے ہیں کہ بڑا اچھا تھا اور بڑا اعلیٰ کام اس نے کیا مگر کسی بڑے آدمی کی زبان اور قلم سے کبھی کسی نے علی الاعلان حضرت مرزا صاحب کی تعریف سنی اور دیکھی ہے؟ ہرگز نہیں ہمارے اخباروں کو پڑھنا بھی تو وہ پسند نہیں کرتے اور ہمارے آقا حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق وہ باتیں جو آریہ اور عیسائی بھی تسلیم کرتے ہیں وہ بھی تو وہ نہیں تسلیم کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں گئے تو مولویوں نے فتوی دیا کہ جو ان کے لیکچرمیں جائے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا لیکن چونکہ حضرت مرزا صاحب کی کشش ایسی تھی کہ لوگوں نے اس کوی کی بھی کوئی پرواہ نہ کی تو راستوں پر پہرے لگا دیئے گئے تاکہ لوگوں کو جانے سے رو کیں- اور سڑکوں پر پتھر جمع کر لئے گئے کہ جونہ رکے گا اسے ماریں گے۔پھر جلسہ گا ہ اسے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر لیجاتے کہ لیکچرنہ سن سکیں۔بی ٹی صاحب جو اس وقت سیالکوٹ میں سٹی انسپکٹر تھے اور پھر سپرنٹنڈنٹ پولیس ہو گئے تھے اب معلوم نہیں ان کا کیا عہدہ ہے ان کا انتظام تھاجب لوگوں نے شور مچایا اور فساد کرنا چاہا تو چونکہ حضرت صاحب کی تقریر اس نے بھی سنی تھی وہ حیران ہوگیا کہ اس تقریر میں حملہ تو آریوں اور عیسائیوں پر کیا گیا ہے اور جو کچھ مرزا صاحب نے کہا ہے اگر وہ مولویوں کے خیالات کے خلاف بھی ہو تو بھی اس سے اسلام پر کوئی اعتراض نہیں آتا اور اگر وہ باتیں سچی ہیں تو اسلام کا سچاہونا ثابت ہوتا ہے پھر مسلمانوں کے فساد کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اگر چہ وہ سرکاری افسر تھا مگر وہ جلسہ میں کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو یہ کہتے ہیں کہ عیسائیوں کا خدا مرگیا اس پر مسلمانو!تم کیوں غصے ہوتے ہو۔غرض ان لوگوں کا ہم سے یہ سلوک ہے اور بادی النظر میں یہی نظر آتا ہے کہ اگر ان میں سے لوگ آریوں میں جاتے ہیں تو ہمیں کیا۔مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ خیال غلط ہے حضرت مسیح موعودؑنے ان کے متعلق یہاں تک فرمایا ہے۔اے دل تو نیز خاطر ِایناں نگاه دار کاخر کنند دعو ٰئے حُب پیمبرم