انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xx of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page xx

انوار العلوم جلد ہے ۱۴ تعارف کتب ہے کہ ان کے ساتھ خدائی تائید شامل ہے اور وہ انسانی الفاظ نہیں رہے۔ بلکہ خدا تعالی کے القاء کردہ الفاظ ہو گئے ہیں “۔ (الفضل ۲ مارچ ۱۹۳۶ء صفحہ ۶) اس شہرہ آفاق با برکت تحفہ کے اختتام پر حضور نے بادشاہ افغانستان کو ان الفاظ میں دعوت حق دی حق دی ہے اور اس تاریخی مکتوب کا ان الفاظ پر اختتام فرمایا ہے ! یہ دنیا چند روزہ ہے اور نہ معلوم کہ کون کب تک زندہ رہیگا آخر میں ہر ایک کو مرتا ہے اور اللہ تعالی کے حضور میں پیش ہوتا ہے۔ اس وقت سوائے صحیح عقائد اور اعمال صالحہ کے اور کچھ بھی کام نہیں آئیگا۔ غریب بھی اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے اور امیر بھی نہ بادشاہ اس دنیا سے ایک کچھ لے گئے نہ غریب ۔ ساتھ جانے والا صرف ایمان ہے یا اعمال صالحہ ۔ پس اللہ تعالی کے مأمور پر ایمان لائیے تا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپکو امن دیا جائے اور اسلام کی آواز کو قبول کیجئے تا سلامتی سے آپکو حصہ ملے میں آج اس فرض کو ادا کر چکا جو مجھ پر تھا۔ اللہ تعالٰی کا پیغام میں نے آپکو پہنچا دیا ہے اب ماننا نہ ماننا آپ کا کام ہے ہاں مجھے آپ سے امید ضرور ہے کہ آپ میرے خط پر پوری طرح غور کریں گے۔ اور جب اسکو بالکل راست اور درست پائیں گے تو وقت کے مامور پر ایمان لانے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو"۔