انوارالعلوم (جلد 7) — Page 173
۱۷۳ دفتر کو ہدایت کی کہ اس امر کے متعلق پوری تحقیق کریں کیونکہ یہ شبہ قوی تھا کہ آریہ لوگ اس امرکی کماحقہ، اشاعت کبھی نہیں کریں گے۔چنانچہ پہلےمختلف ذرائع سے اس خبر کی تصدیق کی گئی اور ضروری حالات معلوم کرنے کے بعد فروری میں دو آدمی ابتدائی تحقیقات کے لئے بھیج دیئے گئے جن میں سے ایک مولوی محفوظ الحق صاحب علی مولوی فاضل تھے جن کے والد صاحب اس علاقہ میں بطور واعظ اور بطور پیر دورے کرتے رہے ہیں اور خود بھی وہ اسی علاقہ کے قریب کے رہنے والے ہیں اور اس وجہ سے اس جگہ کے لوگوں کے بھی اور اس علاقہ کی بھی واقفیت رکھتے ہیں۔دوسرے صاحب عزیزم عبد القدیر صاحب بی اے تھے جنہوں نے خدمت اسلام کے لئے زندگی وقف کی ہوئی ہے اور باوجود اللہ تعالیٰ ٰکے فضل سے لائق اور ہوشیار ہونے کے صرف تیس روپیہ گذارہ لے کردین کی خد مت میں مصروف ہیں۔ان لوگوں کی طرف سے رپورٹ پہنچنے پر کہ حالت بہت مخدوش ہے اور فوری تدارک کی ضرورت ہے میں نے ایک سکیم تیار کی ہے جس سے میرے نزدیک کامیابی کی امید ہو سکتی ہے۔الا ماشاء الله ان واقعات سے ایڈیٹر صاحب وکیل کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ ہماری جماعت خاموش نہ تھی۔اور نہ میں اس فتنہ کی طرف سے بے پروا تھا۔ہمارے دو آدمی پہلے ہی جا چکے ہیں اور آئندہ کے لئے ایک وسیع پیمانہ پر انتظام ہو رہا ہے۔سلسلہ احمدیہ کی خدماتِ اسلام میں خوش ہوں کہ اس زمانہ میں جب کہ اسلام کی زندگی کی اس قدر پرواہ نہیں کی جاتی جس قدر کہ دنیاوی متاع اور دنیاوی حقوق کی روزانہ وکیل نے تبلیغ اسلام کی طرف توجہ کی ہے اور اس کی اہمیت کو سمجھا ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ وکیل نے اپنے جوش میں سلسلہ احمدیہ کی خدمات کو نظرانداز کر دیا ہے اور ایسے رنگ میں سلسلہ کا ذکر کیا ہے جس سے پڑھنے والوں کو دھوکا لگتا ہے کہ گویا دو سرے لوگوں کی طرح ہماری جماعت بھی اس فرض سے غافل ہے حالانکہ اس زمانہ میں صرف ہماری جماعت ہی اس فرض کو ادا کر رہی ہے۔ہمارے غریب اور امیر سب کے سب اپنی بساط کے مطابق دین کی خدمت کے لئے اپنے مال قربان کر رہے ہیں۔اور ان پڑھ اور عالم تمام کے تمام اپنی قدرت کے موافق اشاعت اسلام میں حصہ لے رہے ہیں۔ہندوستان میں اسلام پر حملہ کرنے والوں کے سامنے اگر کوئی جماعت ہوتی ہے توہماری۔بیرونی ممالک میں اسلام کی طرف سے دفاع اگر کوئی کرتا ہے تو ہم۔پس باوجود اس کے ایڈیٹر صاحب کا یہ لکھنا کہ ’’ہمارے مذہبی رہنما اس