انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xviii of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page xviii

انوار العلوم جلد ہے ۱۲ تعارف کتب میں گورنمنٹ کو بھی شامل کرتا ہوں جس کا ہمارے ملک کے نفع و نقصان سے تعلق ہے۔ اس مضمون میں حضور نے مشکلات کا صحیح حل اور ہندو مسلمانوں میں اتحاد اور صلح کی حقیقی تجاویز بیان فرمائی ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ سب سے پہلی بات یہ مد نظر رہنی چاہئے کہ فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر خطر ناک ہے اور سب سے زیادہ فتنہ کا باعث افراد کے معاملات ہوتے ہیں جنہیں قومی سمجھ لیا جاتا ہے اور اس سے قومی اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے آپس کے تعلقات اور سلوک میں فرق نہیں آنا چاہئے۔ کیونکہ کوئی مذہب یہ نہیں کہتا کہ دنیاوی معاملات میں دوسرے مذاہب والوں سے اتحاد نہ ہو۔ ہندو مسلمانوں میں صلح قائم نہ رہ سکنے کی تین وجوہات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ صلح اس لئے قائم نہ رہ سکی کہ اس کی بنیاد وقتی جوش پر تھی۔ یہ کہنا کہ ہم پہلے ہندوستانی پھر ہندو یا مسلم ہیں ایک بظاہر خوشکن مگر بے معنی اور معتبر فقرہ ہے۔ کیونکہ اس میں مذہب پر ملک کو ترجیح دی گئی ہے جو بالبداہت غلط ہے کیونکہ مذہب مقدم ہے اور جب مذہب "حب الوَطَنِ مِنَ الإِيْمَانِ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے) کا درس دیتا ہے تو اس قسم کے نعرہ کے ایجاد کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ حضور نے مسلمانوں کی خود حفاظتی کے متعلق سات نہایت مفید تجاویز پیش فرمائیں۔ اس کے بعد حضور نے مسلمانوں اور ہندوؤں میں حقیقی صلح کے متعلق نہایت موثر تجاویز بیان کرنے کے بعد فرمایا۔ میرے نزدیک یہ تجاویز ہیں جن سے ہندو مسلمانوں میں صلح اور اتحاد ہو سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں ان کے متعلق کسی فریق کو یہ کہنے کا موقع نہیں ہے کہ کسی فرقہ کی پاسداری کی گئی ہے یا تعصب سے کام لیا گیا ہے۔ میں نے دیانتداری سے یہ تجاویز بیان کر دی ہیں۔ آخر میں میں ان ذمہ داریوں کو یاد دلا کر جو حب الوطنی ، اخلاق روح اور انسانیت کی طرف سے آپ لوگوں پر عائلہ ہوتی ہیں اپیل کرتا ہوں کہ ان تجاویز پر غور کرو۔ اللہ تعالی ہمیں اور دوسرے سب لوگوں کو ان راہوں پر چلنے کی توفیق دے جن سے امن وامان قائم کر سکیں"۔ i