انوارالعلوم (جلد 7) — Page 156
۱۵۶ میں ایک بحث مزدوروں کے متعلق ہوتی ہے۔مزدوروں کی انجمنوں پر غور ہو گا اور ان کے حقوق اور اثر سے بحث ہوگی کہ ان کا کیا اختیار ہو۔ان کا انتظام کس طرح ہو۔مالک اور مزدوروں کی انجمنیں باہم کس طرح مل کر کام کریں تاکہ اس کے فوائد زیادہ ہوں پھر اس میں سٹرائگ کے متعلق بحث ہوگی کہ ہونی چاہیے یا نہیں۔اس عرصہ میں کھانے کا کیا انتظام ہو۔تعطیلی کارخانہ - اس کے متعلق مالک کیا طریق اختیار کرے گا اور اس کا کیا اختیارہے کہ نوکروں کو نکال کر کارخانہ بند کردے۔حقوق مزدوران۔آیا مزدوروں کو اپنے حقوق مانگنے کی اجازت ہے یا نہیں ہے تو کس حد تک-غرباء اور ان کاا نتظام۔ایک بحث اس علم میں یہ ہے کہ مالک زمین کے کیا حقوق ہیں ؟ ایک بحث یہ ہے کہ کارخانوں میں باہم اتحاد کس حد تک لازمی ہے۔ایک بحث یہ ہے کہ کارخانے کس طرح بنائے جائیں جس سے مزدوروں کی صحت پر برا اثر نہ پڑے۔پھر ایک بحث یہ ہے کہ کمپنیوں کا قیام کس طرح ہو۔پھر مال کا کیا اثر ہوتا ہے۔ٹیکس اور اس کی حد بندیاں بیمہ اور اس کا اثر - شرکت فی النفع۔نفع اور اس کی تقسیم۔قیمتیں کس طرح گھٹتی بڑھتی ہیں۔یہ شاخیں ہیں علم اقتصاد کی۔منطق۔فلسفہ اور علم ہیئت (۴۳) تینتالیسواں علم منطق ہے۔دو باتوں کو ملا کر صحیح نتیجہ نکال لینا۔اس علم میں یہی سکھایا جاتا ہے مثلاً وہ کہتے ہیں کہ ہر انسان حیوان ہے۔زید انسان ہے معلوم ہوا کہ زید حیوان ہے۔اس طرح پر وہ بتاتے ہیں کہ مختلف باتوں سے صحیح نتائج کس طرح نکالتے ہیں۔اس کے دو حصے ہوئے ہیں۔ایک عام مثالوں سے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ایک صورت یہ ہے کہ خاص حالت سے عام قانون بنا لیتے ہیں۔(۴۴) چوالیسواں علم فلسفہ ہے۔اس کے معنے ہیں حقيقة الاشياء اس میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ مادہ کیا چیز ہے؟ وقت کیا چیز ہے؟ دنیا کا انتظام کسی چیز پر چل رہا ہے؟مادہ کس طریں پیدا ہوتا ہے؟ خد اکیا ہے۔اس علم کا خلاصہ کیا؟ کیوں؟ کس طرح؟ کے تین الفاظ میں آجاتا ہے۔اس کے جوابات جو نکلتے ہیں وہ فلسفہ بتاتا ہے۔خاص طور پر مادہ اور وقت پر بحث کی جاتی ہے۔