انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 148

انوار العلوم جلدے ۱۴۸ تقاریر ثلاث چوتھا علم جو اسی لہو و لعب کی ایک شاخ ہے وہ الصوت یعنی آواز کا علم ہے۔ اس میں ایک شخص ایسے طور پر بات کر سکتا ہے کہ لوگ دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ وہ نیچے سے بولتا ہے مگروہ اوپر سے بولتا ہو گا۔ اسی طرح آگے پیچھے یا دائیں بائیں سے بولتا ہے۔ بعض لوگ ایسے حالات کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں۔ اس علم میں آواز کو آگے پیچھے دور نزدیک کرنے سے خاص اثر پیدا ہوتا ہے۔ اس تبدیلی آواز کی ایک شاخ جانوروں کی بولیاں بولنا بھی ہے۔ شکاری اس سے کام لیتے ہیں اور ان کو بہت مدد ملتی ہے۔ جانور سمجھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بول رہا ہے اور وہ آواز سن کر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پانچواں علم اس فن لہو و لعب میں شعبدہ بازی ہے۔ مختلف کیمیاوی ترکیبوں سے مختلف چیزیں بنا دیتے ہیں اور وہ اصل چیزوں کی سی صورت اختیار کرتی ہوئی نظر آتی ہے جیسے سانپ یا شیر بنانا۔ ایسا ہی مختلف قسم کے نقشے اور دھو کے ہوتے ہیں۔ چھٹا علم ہاتھ کی صفائی دھو کا کہلاتا ہے۔ ایسی پھرتی سے ہاتھ چلاتے ہیں کہ دھوکا لگتا ہے یہ کھیل عام طور پر تاش کے کھیل میں ہوتا ہے۔ ساتواں علم چیستانوں کا ہے پہیلیوں کی طرح اس میں بتایا جاتا ہے کہ یہ بھی دو قسم کا ہے۔ ایک زبانی دوسرا عملی۔ عملی چیستا نیں ایسی ہوتی ہیں کہ لوہے کے چھلے وغیرہ گورکھ دھندے رکھ دیتے ہیں ان کو کھولنا ہوتا ہے۔ علم قدامت و تمدن (۳۲) بتیسواں علم ، علم القدامت ہے۔ اس علم میں بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں انسانوں کی کیا حالت تھی۔ مثلاً ننگے رہتے تھے یا کپڑے پہنتے تھے۔ اور کپڑے اگر پہنتے تھے تو کس قسم کے تھے۔ غرض اس طرح پر پرانے حالات پر اس علم میں بحث ہوتی تھی۔ اس کا ایک حصہ علم اللسان ہے۔ یعنی آیا وہ زبان سے الفاظ بولتے تھے یا اشارات سے کام لیتے تھے۔ خیالات کا اظہار کس طرح کرتے تھے۔ اور اسی میں ایک حصہ علم الدر اہم ہے یعنی سکے نکال کر باتیں دریافت کرتے ہیں۔ اور ایساہی تیسری شاخ علم التعمیر ہے یعنی پرانی عمارتوں سے بھی پتہ لگتا ہے۔ چوتھی