انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 136

انوار العلوم جلدے علم لغت ۱۳۶ تقاریر ثلاث (۳) تیسرا علم ، علم لغت ہے یعنی لفظوں کے معنی یہ خود بہت بڑا علم ہے م ہے اور بہت وسیع ہے۔ زبان تو ہر تو ہر شخص بول لیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہتا ہے کہ تکلیف ہے تو ہر شخص اس تکلیف کے اندازہ کو نہیں جانتا لیکن لغت بتائے گی کہ کس کس جگہ یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اسی محل کے لحاظ سے جب تکلیف کا لفظ بولا جائے گا تو سننے والا فوراً اس کے اندازہ کا ایک علم حاصل کرلے گا یہی علم ہے جو سب الفاظ کا احاطہ کرتا ہے یہ خود ایک مستقل علم ہے ۔ اگر چہ علم زبان سے ہی وابستہ ہے مگر اب مستقل علم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ (۴) چوتھا علم ، انشاء یا خط و کتابت ہے۔ اس میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح خط و کتابت عمدگی سے اپنے خیالات کو تحریر الظاہر کیا جاتا ہے۔ ۔ خط و کتابت اور کتاب لکھنے نے میں میں فرق ہے۔ کتاب لکھنے والا یہ سمجھتا ہے اور ہوتا بھی یہی ہے کہ وہ سب کے لئے لکھ رہا ہے۔ اور اور خط ایسا ہوتا۔ ایسا ہوتا ہے کہ ہے کہ لکھنے والا ایک شخص کو لکھتا ہے اور جو اس کو پڑھتا ہے وہ جانتا ہے کہ مجھے لکھا ہے اور گویا وہ سامنے بیٹھ کر باتیں کر رہا ہے۔ اس طرح پر یہ علم ایک مستقل اور بڑا علم ہے اور اس علم نے اس زمانہ میں بڑی ترقی کی ہے۔ بڑے بڑے کالج اسی غرض کے لئے کھولے گئے ہیں جہاں علم انشاء یا مخط و کتابت کا علم سکھایا جاتا ہے ۔ پھر اس خط و کتابت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ تاجروں کی مخط و کتابت کس قسم کی ہو ؟ افسروں اور ماتحتوں کی مخط و کتابت کے کیا مراتب ہونے چاہئیں اس غرض کے لئے مدرسہ اور کالج کھولے گئے ہیں۔ ان میں بتایا جاتا ہے کہ کسی طرح خط کو زیادہ موثر بنایا جاتا ہے اور اس میں حفظ مراتب کے آداب اور امتیاز کو بھی سکھایا جاتا ہے۔ (۵) پانچواں علم اخبار نویسی کا علم ہے۔ انگریزی میں اس کو جرئل ازم اخبار نویسی (Journalism) اور عربی میں صحافت کہتے ہیں۔ یہ صحافت کہتے ہیں۔ یہ علم بھی بڑا وسیع علم ہے۔ ہمارے ملک میں تو نہیں مگر یورپ اور امریکہ میں اس کے بڑے بڑے مدرسے ہیں جن میں اخبار نویسی کا فن سکھایا جاتا ہے۔ اس فن کی بہت سی شاخیں ہیں۔ کس طرح اخبار کا لیڈر لکھا جائے۔ خبروں کو کس طرح چنا جائے اور کس طرح پر ان کی ترتیب ہو۔ عنوان کیسے قائم کئے جائیں کہ اخبار پڑھنے والے پر اس کا فوری اثر ہو اور وہ اس کے مضمون کو عنوان ہی سے سمجھ لے۔ کس طرح پر ایک مضمون یا واقعہ کو لکھا جائے کہ وہ اپنے مفید مطلب ہو سکے ۔ مثلاً زید اور بکر لڑتے ہیں۔ زید کا دوست ایسے طور پر بیان کرتا ہے کہ زید مظلوم تھا اور رہا تھا اور بکر کے دوست ایسے طور پر کہ بکر