انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 135

۱۳۵ ہیں۔اشارات کی زبان سے بڑے بڑے کام لئے جاتے ہیں۔تار کی ساری زبان اشارات پرہی موقوف ہے۔لاہور سے بحثالہ کس طرح لفظ پہنچے گا؟ مگر تار کے ذریعہ بحثالہ تو کیا لنڈن اور دنیا کے تمام حصوں میں خبر پہنچائی جاتی ہے۔اسی طرح جیسے میں نے کیا فوجوں میں کام کیا جاتا ہے۔یہ سے اشارہ کرتے ہیں یا جھنڈی سے بتاتے ہیں اور دوست کو روشنی سے اشارہ کرتے ہیں کہ دشمن کمزور ہے یا زبردست ہے۔کھانے پینے کی چیزوں کی ضرورت ہے یا گولہ بارود کی حاجت ہے۔غرض بہت بڑے بڑے کام اس اشارتی زبان سے لئے گئے ہیں۔اگر صرف الفاظ یا تحریر تک ہی زبان محدود ہوتی تو کام رک جاتے۔غرض علم زبان سب سے مقدم ہے اور (یہ تینوں علوم جدا جدا ہیں مگر تقسیم علوم زبان ہے اور یہ تینوں اس کی مختلف شاخیں ہیں اور اپنے اندر وہ بھی ایک وسیع علم رکھتی ہیں۔زبان کے علم کے نیچے بعض اور مستقل علوم میں ان کا تعلق گو زبان میں سے ہے مگر عملی تقسیم میں ان کو الگ قرار دیا ہے اس لئے میں بھی اسے دوسرا علم کہتا ہوں۔علم بلاغت کی (۲) دوسرا علم علم بلاغت ہے۔یہ زبان سے تعلق رکھتا ہے۔بلاغت میں محض اظہار خیالات ہی مقصد نہیں ہوتا بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر ہوتا ہے جیسے بچہ روٹی کو توتی کہتا ہے یا ایک غیر زبان کا آدمی یا انگریز کہتا ہے۔کھاناما نگتا ہے۔مطلب تو اس سے سمجھ میں آتا ہے مگر زبان صحیح نہیں ہوتی۔زبان کا علم تو صرف اس قدر ظاہر کرتا ہے کہ خیالات ظاہر کردیئے مگربلا غت کا علم اس سے بڑھ کر تین باتوں پر بحث کرے گا۔باتیں کتنی اقسام کی ہوتی ہیں۔مثلاً ایک شخص کو کہیں کہ بڑا بہادر ہے لیکن شیر چونکہ بڑا بہادر ہوتا ہے اس لئے جب کہا جائے کہ فلاں شخص شیر ہے تو پڑا اثر ہوتا ہے۔اس طرح پر گویا اس میں استعارات اور مجاز سے بھی بحث ہوتی ہے۔ایک شخص کی نسبت کیا جائے کہ غصہ ہوگیا تو اتنا اثر نہیں ہوتا لیکن جب کہیں کہ آگ بگولا ہو گیا تو اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔اس طرح پر گویا غيرلفظ بول کر اور مفہوم بن جاتا ہے اس علم بلاغت میں ایک بحث یہ ہوتی ہے کہ کلام خوبصورت کس طرح بنایا جاتا ہے۔اس علم کی بدولت انسان اچھی طرح بولنے یا کہنے لگتا ہے۔جیسے کہتے ہیں کہ فلاں شخص بڑا اعلی ٰدرجہ کی تقریر کرتا ہے یا بہت عمدہ لکھتا ہے تو یہ خوبی اس علم کےذریعہ پیدا ہوتی ہے۔غرض علم ِبلاغت میں یہ باتیں ہوتی ہیں۔