انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 132

انوار العلوم جلد ۱۳۲ تقاریر ثلاثه علم کے متعلق تاریخ القضاء ہے۔ کس کس طرح یہ محکمہ مکمل ہوا اور کون سے بڑے قاضی اسلام میں گزرے ہیں ؟ الله دسواں علم ، علم الفرائض و المیراث ہے۔ میراث کے قوانین اگر چہ فقہ میں شامل ہیں مگر یہ مستقل علم ہے کیونکہ اس کا اثر سیاست اور قوم پر آکر پڑتا ہے۔ گیارھواں علم ، علم الادعیہ والاذکار ہے۔ اس علم میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کس کس وقت اور کون کونسی دعا ئیں اور اذکار کرنے چاہیں۔ بارھواں علم ، علم السیر ہے۔ اس علم کے ذریعہ بڑے بڑے صحابہ اور دوسرے بزرگان کے حالات کا علم ہوتا ہے۔ تیرھواں علم ، علم اخلاق ہے۔ کس طرح بری عادتوں اور اونی اخلاق کو ترک کر کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور عادات حاصل کئے جاتے ہیں۔ اس میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو اخلاقی امراض انسان میں پیدا ہوتے ہیں ان کے اسباب کیا ہیں اور کیوں ان امراض کو امراض سمجھا جاتا ہے۔ اسلام چودھواں علم ، علم الکلام ہے۔ اس علم سے یہ مراد ہے کہ غیر مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی فوقیت کسی طرح پر ثابت کیجاتی ہے اور اصول اسلام کو دلائل سے ثابت کیا جاتا ہے۔ اسی علم کلام میں ایک شاخ علم بحث ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دوسرے مذاہب جو اسلام کے مقابلہ میں ہیں ان کے عقائد یا اصول کیونکر غلط ہیں ۔ مثلاً عیسائیت کا یہ مسئلہ کہ خدا تین ہیں یا خدا مجسم ہے کیوں صحیح نہیں؟ یا ہندوؤں کے عقیدے کیوں درست نہیں ؟ اس علم بحث کے پھر دو حصے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جس میں دوسروں کی تردید دلائل سے ہوتی ہے۔ دوسرا اصول علم کلام ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ معیار صداقت کیا ہے؟ کس طرح دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے یہ سب باتیں اصول علم کلام میں بیان کی جاتی ہیں۔ سولہواں علم سیاست اسلامیہ ہے۔ حکومت کا کیا انتظام ہو رعایا اور حکومت کے کیا تعلقات ہیں حکومت پر رعایا کے کیا حقوق ہیں اور رعایا پر کیا؟ یہ بہت وسیع علم ہے حکومت کس طریق سے کی جائے دوسری حکومتوں سے اس کے کیا تعلقات ہیں ؟ غرض یہ سولہ موٹے موٹے علوم ہیں اور ان کی شاخیں ملا کر تو بہت بڑی تعداد ان ملاکم علوم کی ہو جاتی ہے۔ دنیاوی علوم میں اگلے ہفتے میں بیان کروں گا۔ انشاء اللہ العزیز ۔