انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xv of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page xv

انوار العلوم جلد ہے ۹ تعارف کتب نمائندگان مجلس مشاورت سے خطاب مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۲۳ء کو مجلس مشاورت کے نمائندگان سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”جب ہم یہ دیکھیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ماننے والوں کی روحیں ہلاکت کی طرف لے جائی جا رہی ہیں اس وقت ہماری ذمہ داری کتنی بڑھ جاتی ہے۔ کیا ہم اس لئے پیچھے رہیں گے کہ وہ غیر احمدی ہیں ؟ کیا ہم اس لئے ان کو ارتداد سے بچانے نہ جائیں گے کہ ان کے مولوی ہمیں کافر اور ہمارے مسیح کو دجال کہتے ہیں اور ہمیں ہر ایک قسم کا نقصان جو وہ پہنچا سکتے ہوں پہنچانا عین ثواب خیال کرتے ہیں ہرگز نہیں؟ ہمارا فرض ہے کہ ہم اشاعت اسلام کے لئے کھڑے ہوں اور اس راہ میں جو بھی قربانی کرنی پڑے وہ کریں اور نہ صرف ان مسلمانوں کو ارتداد سے بچائیں بلکہ ان کو بھی اسلام میں لائیں جو ان کو اسلام سے چھین لے جانے کے درپے ہیں"۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اپنے ہمسایہ ہندوؤں کو تبلیغ اسلام کریں سید نا حضرت مصلح موعود کو ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کے لئے ایک خاص جوش تھا جس کا اظہار مختلف پیرایوں میں ہوتا رہتا تھا۔ مؤرخہ ۴۔ اپریل ۱۹۲۳ء کو الفضل میں حضور کا ایک ارشاد شائع ہوا جس میں حضور نے مسلمانوں کو اپنے اپنے ہمسایہ ہندوؤں کو تبلیغ اسلام کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ حضور نے فرمایا ” میں اس کام میں ہر طرح کی مدد دینے کے لئے تیار ہوں" ہدایات برائے مبلغین اسلام سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۱- اپریل ۱۹۲۳ء کو انسداد ارتداد کے جہاد میں شامل ہونے والے مجاہدین کے لئے ۵۲ زریں ہدایات رقم فرمائیں یہ ہدایات ایک مطبوعہ ٹریکٹ کی شکل میں تمام مجاہدین کو دی گئیں۔ احمدی مجاہدین سے خطاب سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی نے مورخہ ۲۰ جون ۱۹۲۳ء کو احمدی مجاہدین کو نہایت زریں ہدایات سے نوازا۔