انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 109

انوار العلوم جلدے ۱۰۹ نجات حصول کے لئے جو اعمال کئے جاتے ہیں ان کو چھوڑنے کا کیا مطلب؟ خداتعالی نے روح کو ابدی اسی لئے بنایا ہے کہ تا وہ یہ سمجھے کہ خدا کا عرفان کبھی ختم نہ ہو گا۔ روح کو خدا تعالیٰ ابدی زندگی دیکر کہے گا کہ میرا عرفان حاصل کر ۔ مگر جب عرفان کبھی ختم نہ ہو گا تو روح کو پتہ لگے گا کہ ذات باری غیر محدود ہے ورنہ جو موجودہ علم انسان کو اللہ تعالیٰ کی نسبت ہے اس سے ان طاقتوں کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا جو اللہ تعالی میں پائی جاتی ہیں۔ دوسری جہالت ان لوگوں کی یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے اعمال کی حقیقت سے ناواقفیت اعمال کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ اعمال صرف خدا کو پا لینے کے لئے ہی نہیں ہوتے بلکہ عبودیت کے اظہار اور اظہار شکریہ کے لئے بھی ہوتے ہیں۔ جس کو خدا مل گیا اور فرض کر لو کہ خدا کے عرفان کی حد اس نے معلوم کرلی اور اس حد کو پہنچ گیا تب بھی وہ اعمال چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ پھر وہ شکریہ کے اظہار کے لئے عمل کرے گا۔ یہ ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص اپنے شاگرد کو اپنا سارا علم پڑھا دے مگر شاگرد پھر بھی اس کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔ تیسری جہالت یہ ہے کہ ایسے لوگوں نے اپنی حقیقت بھی نہیں اپنی حقیقت سے ناواقفیت سمجھی۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ مخلوق ہر وقت تازہ غذا کی محتاج ہوتی ہے۔ عبودیت کے ذریعہ انسان عرفان کے مقام پر جب پہنچتا ہے تو پھر اسے یہ بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اس مقام پر اپنے آپ کو قائم رکھے جیسے ایک مضبوط آدمی کو ضرورت ہوتی ہے کہ اپنی طاقت قائم رکھنے کے لئے غذا کھاتا رہے۔ پس جس طرح ایک انسان مضبوط ہو کر کھانا کھانا چھوڑ نہیں دیتا اسی طرح عرفان کے مقام پر پہنچ کر عبودیت کو چھوڑ نہیں سکتا۔ پس عبادت کبھی نہ چھوٹے گی نہ یہاں اور نہ وہاں ۔ بلکہ وہاں زیادہ بڑھ کر عبودیت کا اظہار کیا جائے گا۔ ہاں دنیا ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان اس مقام سے گر بھی سکتا ہے اور اس میں ترقی بھی کر سکتا ہے مگر وہ ایسی جگہ ہے کہ وہاں اپنے مقام سے گرے گا نہیں اور بڑھتا ہی جائے گا۔ ا الفاتحة : اتات -٢- المؤمنون : ۲ تا ۱۲ زبور باب ۵۱ آیت ۱۲ تا ۱۴ بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء - الاعراف : ۴ ۵ - الانعام : ۹۴