انوارالعلوم (جلد 7) — Page 97
انوار العلوم - جلد سے رہے۔ ۹۷ تناسخ کو ماننے والوں کا طریق بالکل اس کے مشابہ ہے۔ وہ کہتے ہیں انسانوں کی حالتوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے اس کے بعد آپ ہی آپ اس کی یہ وجہ گھڑ لیتے ہیں کہ یہ پچھلی جون میں جیسے کام کرتے تھے ویسے ہی آج ان کو بدلے ملتے ہیں پس تناسخ درست ہے ۔ ہم کہتے ہیں یہ تو ٹھیک ہے کہ اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے مگر یہ کس طرح معلوم ہوا کہ اسکی یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے باعث ایسا ہوا ہے۔ اس کی بھی کوئی دلیل ہونی چاہئے کہ صرف تناسخ کے سبب سے ایسا ہوتا ہے ۔ تناسخ کو ثابت کرنے کے لئے صرف یہ ثابت کر دینا کافی نہیں کہ انسانوں کے اختلاف کی کوئی وجہ ہونی چاہئے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ثابت کیا جائے کہ تناسخ ہی اس کی وجہ ہے۔ نجات اب میں تفصیلاً ان کے اعتراضات کے جواب دیتا ہوں۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ مانا جائے کہ خدا تعالیٰ نے لوگوں کو مختلف الحالات ہی پیدا کیا ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ انسان کو اپنے اعمال پر قدرت نہیں کیونکہ جب اس کو بلا سبب کم طاقتیں دے کر بھیجا گیا ہے تو وہ کم ہی کام کرے گا اور پھر مواخذہ کے نیچے آجائے گا۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ نتیجہ جو نکالا گیا ہے درست نہیں۔ مقدرت اس سے جاتی نہیں رہتی۔ مقدرت اس صورت میں جاتی رہتی اگر اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ فرماتا کہ زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ اجر ملے گا اور کم والے کو کم مگر یہ خدا تعالٰی نے فیصلہ نہیں کیا۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے فَلَنَقُصُّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - ٥٣ یعنی ہم اپنے علم سے لوگوں کے سامنے ان کے تمام حالات بیان کریں گے اور ہم کبھی بھی ان لوگوں سے غائب نہیں ہوتے اور اس دن وزن حق ہو گا۔ پس جو شخص کہ ایسا ہو گا کہ اس کا بوجھ زیادہ ہو گا وہ کامیاب ہو جائے گا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اعمال کی بناء پر نہیں بلکہ وزن کی بناء پر نجات ہوگی اور وزن سے مراد تمام امور کا خیال ہے جن کی بناء پر کسی امر کی قیمت لگائی جاتی ہے۔ پس جب کہ ہر اک انسان کے اعمال کو دیکھتے وقت اس امر کا لحاظ رکھا جائے گا کہ اس نے کن حالات میں کن مشکلات میں یا کن اثرات کے نیچے یہ کام کیا تھا تو مقدرت میں فرق تو نہ آیا کیونکہ ایک غریب آدمی ایک امیر کے برابر اخلاص رکھتا ہے اور اپنی طاقت کے مطابق دینی خدمات بجالاتا ہے اور اس کے اخلاص کو وزن کر کے نہ کام کو اللہ تعالی بدلہ دیتا ہے تو پھر عدم